اسلام آباد کے ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی دھرنا جاری

اسلام آباد کے ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے، خواتین مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک گھر نہ جانے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تیسرا روز اور موسم کی شدت برداشت کرتی لیڈی ہیلتھ ورکرز مطالبات کی منظوری کے لیے ڈٹ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو خواتین طبیعت بگڑنے کے باعث بے ہوش بھی ہوئیں۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مرکزی صدر رخسانہ انور نے حکومت کو مطالبات ماننے کے لیے دو بجے تک کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو کنٹینرز اور خاردار تاروں کو عبور کرکے  پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے۔

وزیر صحت کی جانب سے  گزشتہ مطالبات سُننے کے باوجود اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔ الٹی میٹم سے پہلے  ہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دھرنے میں پہنچ گئے اور  شرکاء کو مسائل جلد حلد کروانے کی یقین دہانی کرائی۔ جس پر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔

رخسانہ انور نے کہا کہ حکومت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔

چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی جانب سے لیڈیز ہیلتھ ورکرز کے دھرنے میں  کھانا بھجوایا گیا۔دوسری جانب شازیہ مری نے شرکا میں کھانا تقسیم کیا،بلاول بھٹو نے خواتین کے لیے تین کھانوں کی گاڑیاں بھجوائیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment