سیاست دانوں کو غدار قرار دینا آمروں کا وطیرہ رہا ہے

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں یہ لوگ ہمیں غدار قرار دیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پریشان ہونے کی بات نہیں۔ پاکستان بننے سے آج تک ڈکٹیٹر سیاست دانوں کو غدار قرار دیتے آرہے ہیں۔

گوجرانوالہ میں اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مادر ملت فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، مولوی فضل حق، مری، بزنجو، بلوچ اور شیخ مجیب الرحمان قرار دیے گئے۔ یہ آمروں کا وطیرہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ میں جنرل نیازی نے دنیا کی تاریخ میں انتہائی ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈالا لیکن غدار کون ہے۔ غدار پھر بھی سیاست دان ہیں۔ میاں نواز شریف، بینظیر بھٹو، اکبر بگٹی، محمود خان اچکزئی یہ سب غدار ہیں کیوں کہ یہ آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں اور محب وطن کون ہے، جنہون نے آئین توڑا اور ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔

نوازشریف نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں مگر برابری اور عزت نفس کے ساتھ، ملک کے اندر اور باہر بھی۔ ہم باضمیر لوگ ہیں، بے ضمیر لوگ نہیں۔ جب بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کیے تو ہم نے 6 دھماکے کیے۔ جب انہوں نے امن کی بات کی، ہم نے مثبت جواب دیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم خود چل کر پاکستان آئے۔ واجپائی نے لاہور آکر وزیٹر بک میں کیا لکھا تھا۔ آج جاکر پڑھیں مگر آج دنیا ہمارے ساتھ نہیں۔ سعودی عرب بھائی سے بڑھ کر دوست ہے۔ آج کیوں ہم سے خفا ہے۔ کیوں ہم آج دنیا سے کشمیر پر بات نہیں کرواسکے، ایک قرارداد پیش نہ کروا سکے۔ الٹا اپنے کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ درج کروایا۔

انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اس کرپشن میں تم ملوث ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ ثاقب نثار کی این آر او لیکر تم بری ہوگئے۔ تمہیں بنی گالا زمان پارک کا حساب دینا پڑے گا۔ رسیدیں دینا پڑیں گے۔ علیمہ خان کے بیرون ملک اثاثوں کا جواب دینا ہوگا۔ فارن فنڈنگ کیس کا جواب دینا پڑے گا جس میں تمہارے اپنے لوگ گواہی دیتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ عمران نیازی تم نے وزیراعظم ہوکر چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی۔ تم نے پروا نہیں کی، تمہارے اے ٹی ایم کھربوں لوٹ گئے۔ یہ کھربوں عوام کے جیب سے نکلا ہے اور عمران نیازی اور اس کے حواریوں کے جیب میں گیا ہے۔ اس پر خاموش رہنا ظلم اور جبر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کا وزیر صحت اربوں لوٹ کر چلا گیا۔ عاصم سلیم باجوہ کی اربوں کی کرپشن سامنے آگئی۔ یہ عاصم سلیم باجوہ پاکستان کی حکومت گرانے، بلوچستان حکومت گرانے، سنیٹ انتخابات میں دھاندلی میں ملوث ہے۔ اس پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے۔ عمران نیازی تم نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیب کا وطیرہ ہے کہ بغیر ثبوت لوگوں کو اٹھاکر لے جاتی ہے مگر تمام تر گواہ اور ثبوتوں کے باوجود عاصم باجوہ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ نیب مشرف کا بنایا قانون ہے۔ اس کا مقصد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا تھا مگر جاوید اقبال بہت آگے نکل چکا۔ اس کو عدالتوں اور عالمی اداروں کی بھی پروا نہیں کی۔

نواز شریف نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اقبال کب تک مفادپرست طبقے کے ایجنڈے پر عمل کروگے۔ کب تک عاصم باجوہ اور عمران خان کی کرپشن کو تحفظ دوگے۔ تمہارا یوم حساب آئے گا۔ گوجرانوالہ کے لوگ گواہ ہیں، بہت جلد یوم حساب آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئین سے انحراف صرف مارشل لا نہیں بلکہ میڈیا کا منہ بند کرانا بھی آئین سے انحراف ہے، ججوں سے زبردستی من پسند فیصلے کروانا اور عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا بدترین آئین شکنی ہے۔ یہ لوگ اپنے مفادات کیلئے پاک فوج کو بدنام کرنے کے درپے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ان جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو فلک پوش چٹانوں پر جان دیتے ہیں۔ کل 20 جوان شہید ہوئے، یہ فوج کی عزت بناتے ہیں، یہ قوم کی عزت بناتے ہیں، ان کو قوم سلام پیش کرتی ہے، ان کے والدین کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔ یہ جوان قوم کے ہیرو ہیں۔ نواز شریف تم کو سلام کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر چند لوگ کہتے ہیں کہ وہ آئین کے تابع ہیں۔ سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ پھر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس پر چڑھائی کرکے وزیراعظم کو کال کوٹھری میں ڈال دیا۔ چار مارشل لا کس نے لگائے۔ اسٹیٹ کے اوپر اسٹیٹ کس نے بنائی، سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ، انتخابات سے قبل جوڑ توڑ کس نے کیا۔ صحافیوں کا اغوا کرکے تشدد کون کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment