افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں تیزی لائیں گے، امریکا

امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں تیزی لائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق کرسٹوفر ملر نے کہا کہ ‘اب وطن واپسی کا وقت آگیا ہے’۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد قائم مقام سیکریٹری دفاع نے اپنے پہلے پیغام میں کہا کہ تمام جنگوں کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا 19 سال سے القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے اور گروپ کو ‘شکست دینے’ کے راستے پر ہے۔

کرسٹوفر ملر نے کہا کہ ‘بہت لوگ جنگ سے تنگ ہیں اور میں ان میں سے ایک ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لیکن یہ وہ نازک مرحلہ ہے جس میں ہم اپنی قیادت پر مبنی کوششوں کو سپورٹنگ رول میں منتقل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگوں کے خاتمے کے لیے سمجھوتہ اور شراکت کی ضرورت ہے، ہم نے ہر سطح پر اس کا مقابلہ کیا لیکن اب گھر جانے کا وقت آگیا ہے’۔

کرسٹوفر ملر نے امریکی فوجیوں کی مخصوص تعیناتیوں کا تذکرہ نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مارک ایسپر کو برطرف کرنے کے بعد سابق امریکی اسپیشل فورس افسر اور انسداد دہشت گردی کے ماہر کو محکمہ دفاع کی قیادت کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ کے امیدوار جو بائیڈن سے ہارنے والے ڈونلڈ ٹرمپ 4 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکی فوجوں کو نکالنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

سابق سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے 29 فروری کو امریکا-طالبان امن معاہدے کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کی دو تہائی کمی کی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک طالبان تشدد میں کمی کے وعدے کی پابندی نہیں کریں گے تب تک 4 ہزار 500 امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ رواں سال کرسمس (25 دسمبر) تک امریکی فوجیوں کو واپس لانے کے خواہش مند ہیں۔

ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ و برین نے کہا تھا کہ فروری تک مزید 2 ہزار 500 فوجیوں کی کٹوتی ہوگی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment