پاکستان میں کورونا کے علاج کی دوا تیاری کے اہم مرحلے میں داخل

پاکستان میں کورونا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل ہو گئی اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی کووڈ-19 کی دوا کے کامیاب کلینیکل ٹرائل کے انتہائی مثبت نتائج حاصل ہونے لگے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق یونیورسٹی کی کووڈ-19 کی دوا انٹر اوینس امیونوگلوبیولن(سی-آئی وی آئی جی) کے کامیاب کلینیکل ٹرائل کے انتہائی مثبت نتائج حاصل ہونے لگے ہیں۔

کلینیکل ٹرائل میں شامل شدید بیمار مریضوں میں صحتیابی کی شرح 100فیصد رہی جبکہ آئی سی یو میں داخل انتہائی بیمار مریضوں میں صحتیابی کی شرح 60 فیصد سے زائد رہی ہے جبکہ صحتیاب ہونے والے 50 فیصد مریضوں کو محض 5 روز میں ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

یاد رہے ڈاؤ یونیورسٹی میں سی-آئی وی آئی جی کے پری کلینکل ٹرائل اپریل کے اوائل میں شروع ہوئے تھے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ڈریپ نے فوری طور پر اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی تھی۔

سی-آئی وی آئی جی کی تیاری کے پروجیکٹ کے لیے بنیادی فنڈنگ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے کی جبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی نگرانی میں ڈاکٹر شوکت علی اور ان کی ٹیم نے سی-آئی وی آئی جی پروجیکٹ پر کام کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر شوکت علی نے اس ضمن میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ سی-آئی وی آئی جی انجیکشن کورونا سے صحتیاب مریضوں کے پلازما سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز کو علیحدہ کر کے تیار کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مریضوں میں سی-آئی وی آئی جی کا موثر ہونا انتہائی اہم کامیابی ہے اور اس کے لیے کورونا کے صحت یاب مریضوں کی جانب سے پلازما عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے بھی خصوصی طور پر اجازت دے دی تھی تاہم جس طرح کورونا کی لہر تیز ہو رہی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے مطلوبہ مقدار میں دوا کی تیاری ممکن نہیں ہو پائے گی کیونکہ پلازما عطیہ کرنے کا رحجان کم ہے۔

ڈاکٹرشوکت علی نے مزید بتایا کہ کلینکل ٹرائل میں شامل مریضوں کی عمر اوسطََ 60 برس تھی اور تقریباََ تمام شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کی جانوں کو زیادہ خطرہ لاحق تھا، اس طرح کے مریضوں میں سی-آئی وی آئی جی کا موثر ہونا انتہائی اہم کامیابی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں سی-آئی وی آئی جی کے کلینکل ٹرائل جون کے اوائل میں شروع ہوئے البتہ کورونا کی دوسری لہر میں تیزی کے بعد کلینکل ٹرائل میں تیزی کردی گئی ہے، سی-وی آئی وی آئی جی کی تیاری کے لیے کورونا سے صحت یاب افراد کا پلازما درکارہے تاکہ بڑی مقدار میں دوا تیار کی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شوکت علی نے بتایا کہ یوں تو کورونا کی بیماری کے بارے میں تحقیق تاحال جاری ہے لیکن کورونا عموماََ تین وجوہات کے باعث جان لیوا ثابت ہوتاہے۔

ڈاکٹر شوکت علی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ کورونا انسانی پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوکر انہیں نقصان پہنچاتا ہے، دوسری وجہ یہ وائرس متاثرہ شخص کے انسانی مدافعتی نظام کو بے قابو یا کنٹرول سے باہر کر دیتاہے، جسے سائیٹو کائن اسٹروم کا نام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسری وجہ یہ ہے کہ شدید بیمار افراد میں سیکنڈری بیکیٹریا انفیکشن کی وجہ سے سیپسز پورے جسم میں پھیل جاتا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا سے صحت یاب افراد کے پلازما سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز کو سی آئی وی آئی جی کا نام دیا گیا ھے کو مدافعتی نظام کو خراب ہونے سے روک کر اسے باقاعدہ کر دیتا ہے، جبکہ خاص طریقے سے حاصل کیے گئے شفاف پلازما میں موجود دیگر اینٹی باڈیز ثانوی بیکڑیل انفیکشن کو روکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور سردیوں کے موسم کی آمد کے پیش نظر کیسز کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوترا جا رہا ہے جس کے بعد ماہرین نے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 ہے جس میں سے 3 لاکھ 28 ہزار 931 صحتیاب ہوئے ہیں جو 88 فیصد سے زائد ہے جبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 603 تک پہنچ گئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 843 کیسز اور 42 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا جبکہ ایک ہزار 389 مریض صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 34 ہزار 974 تک پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد سے جون تک وبا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی گئی تاہم جولائی میں صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ ستمبر کے اوائل تک جاری رہا۔

ستمبر کے وسط سے ایک مرتبہ پھر کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور اکتوبر میں اس میں مزید تیزی آگئی، جس کا رجحان نومبر میں بھی نظر آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment