رومانس کسے کہتے ہیں ؟

تحریر۔۔۔وقارحیدر

مجھے یہ تو نہیں معلوم کے رومانس کیسے لکھا جاتا ہے، لیکن رومانس ہوتا کیا ہے یہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

انگریزی کے اس لفظ کو عام طور پر محبت کے ساتھ ہی لکھا اور جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایک جذبہ ہے جو کہ محبت کیساتھ ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یوں کہہ لیجئیے ایک ایسا گہرا احساس یا جذبہ جو آپ کا ناطہ انتہائی مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جو آپکا دوسرے انسانوں سے تعلق کو ممتاز کرتی ہے۔

یہاں ایک اور مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ رومانس کو بیڈ رومز تک محدود کر دیا گیا ہے، جیسے ایک لفظ Sexy ہے اسکو بھی ایک جنس میں مقید کر دیا گیا ہے، ورنہ ایسا بہترین اور Expressive لفظ کم ہی ملتاہے۔ Sexy is Something that make you feel amazing مطلب یہ کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے۔ موسم بڑا سیکسی ہے۔ اسکی کمپنی بڑی سیکسی ہے۔ اسکے الفاظ بہت سیکسی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

لفظ Romance کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی صورتحال چل رہی ہے۔ اگر آپ احباب اپنے اذہان کو کمرے کی دیواروں سے نکال کر اسکو پڑھنے اور خاص طور خواتین کے اس لفظ سے جڑے احساسات کو سمجھیں تو یقینا آپکو کافی حد تک افاقہ ہوگا۔ 

ریخہ ویب گاہ والوں نے رومان بارے یہ لکھا ہے (رومان کے بغیر زندگی کتنی خالی خالی سی ہوتی ہے اس کا اندازہ تو آپ سب کو ہوگا ہی۔ رومان چاہے کائنات کے ہرے بھرے خوبصورت مناظر کا ہو یا انسانوں کے درمیان نازک وپیچیدہ رشتوں کا اسی سے زندگی کی رونق مربوط ہے۔ ہم سب زندگی کی سفاک صورتوں سے بچ نکلنے کے لئے رومانی لمحوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ تو آئیے ہمارا یہ شعری انتخاب ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں ہر طرف رومان بکھرا پڑا ہے۔)

ہمارے ایک ہم کمرہ اعزاز صاحب کہتے ہیں رومانس کیلئے ماحول چاہیئے ہوتا ہے۔ انکا خیال ہے کہ رومانس کیلیے جگہ کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ الفاظ کو کشید کرنا اور پھر انکی چاشنی سے اگلے کا دل موہ لینا کوئی عام بات نہیں۔ 

رومانس کو جنس مخالف تک محدود کرنا زیادتی ہے۔ آپ اپنے اردگردنظر دوڑائیے۔ ابر آلود موسم سے، ڈھلتی شام سے، گہری رات سے، برستی بارش سے، ابھرتے سورج سے، رات کے سناٹے سے، سمندر کے ساحل سے، دور دریا میں تیری کشتی سے، کبھی کتابوں سے تو کبھا حجابوں سے، کسی کو منبر و محرابوں سے تو کسی کو وصل و ہجر کے خوابوں سے اور جیسے کسی عاشق کو سرابوں سے، یہ چند وہ لمحات ہیں جہاں رومانی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔

ویسے ان دنوں ہمارے شہر اسلام آباد کا موسم بھی خوب رومینٹک ہوا ہوا ہے۔ ماحول پر بادلوں اور ہلکی بارش کا سحر طاری ہے۔ عوام چائے اور پکوڑوں کیجانب انے واہ ہی کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے ایسے چائے پوائنٹس کا جنہوں نے چائے کی پلائی اور پکوڑوں کی پلیٹ کے ریٹ انتے رکھے ہوئے ہیں کہ اگر دو لوگ چائے پکوڑے منگوا ہی لیں توکم از کم بل 1 ہزار روپے بنے گا۔ خیر مزے ایسے ہی نہیں ملتے اسکی قیمت تو چکانا پڑتی ہے نا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں