بزرگ شہری اور ان کے حقائق


تحریر : کائنات مرتضی
جسم اپنے فانی ہیں جان اپنی فانی ہے فانی ہے یہ دنیا بھی
پھر بھی فانی دنیا میں جاوداں تو میں بھی ہوں جاوداں تو تم بھی ہو
کہا یہ جاتا ہے کہ ایک نا ایک دن اس دنیا میں آنے والی ہر روح کو یہاں سے واپس تو جانا ہی ہے تو پھر آخر غرور کس بات کا؟ اگر آج آپ کے پاس صحت ہے، اگر آج آپ کسی کام کو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر آج آپ کو سارے حقائق دیئے گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ اپنے سے بڑوں پر بھی حکمرانی کریں۔
ہمارے معاشرے میں جوں جوں انسان کی عمر گھٹتی جاتی ہے وہ اپنے تمام حقوق و فرائض سے دستبردار ہوتا چلا جاتا ہے۔ عمر کا یہ تقاضا آن پہنچتا ہے کہ آپ کی اپنے ہی آپ سے بات کرنا تک مناسب نہیں سمجھتے، آپ کی عزت کرنا مناسب نہیں سمجھتے، آپ کے ساتھ رہنا مناسب نہیں سمجھتے اور پھر آپ کو ایک ایسی جگہ چھوڑ آتے ہیں جہاں ہماری مغربی تہذیب آ کر جنم لیتی ہے اور وہ اس جگہ کو اولڈ ایج ہوم کہہ کر پکارتی ہے۔ جہاں سال میں ایک دن جا کر اپنے بڑوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔ افسوس ہمارے معاشرے میں بزرگ کا کیا مقام تھا اور کیا ہو گیا۔
راولپنڈی شہر میں موجود بزرگ شہریوں کے سنٹر کا جائزہ لینے پر مجھے یہ معلوم ہوا کہ منظور نامی بزرگ شہری کا بیٹا اسلم انہیں پچھلے دو سالوں سے ملنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی  ٹیلیفونک رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق مزید پوچھنے پر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے انہیں مالی مدد فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
مانا جاتا ہے کہ ہر گھر میں بزرگ دکھ اور سکھ کا ساتھی ہوتے ہیں اگر گھر میں بزرگ نا ہوں تو گھر کی رونق کہیں کھو سی جاتی ہے۔ لیکن آج کل کے اس ماڈرن دور میں بزرگوں کی اہمیت صرف کتابی باتوں کی حد تک محدود ہے۔
راولپنڈی کے علاقے شالے ویلی میں موجود محمد خان نامی بزرگ شہری کا یہ کہنا ہے کہ جہاں گھر کی خوشیوں میں بزرگوں کا ہاتھ اول ہوتا تھا تو وہی آج کل کے اس دور میں بزرگوں کو یہ کہہ کر پیچھے کر دیا جاتا ہے کہ آپ کو تو فیشن کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں بہتر ہوگا کہ آپ اپنے آپ تک محدود رہیں۔
جہاں ایک جگہ رب تعالی کی مرضی آپ کی لمبی عمر کے لیے درکار ہوتی ہے تو وہیں پر دوسری جانب آپکی خوراک آپ کو صحتمند رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔  صحیح خوراک کی کھپت آپکو تمام تر بیماریوں سے دور بھی رکھتی ہے۔
صفیہ نامی بزرگ شہری سے بات چیت کرتے ہوئے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ پرانے وقتوں کی خوراک اتنی خالص تھی کہ بنا کسی ادویات کے آپ 70 سے 90 سالہ زندگی آرام سے بسر کر سکتے تھے لیکن آج کل کی غذائیات میں یہ دم نہ رہا۔
بات کی جائے گزشتہ سال اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں سینئر سٹیزن کے لیے پاس ہونے والے ایکٹ کی جس کے مطابق بزرگ شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی مالی مدد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ایکٹ کی بدولت جہاں پہلے بزرگوں کو دھتکار دیا جاتا تھا اور انھیں لمبی لمبی لائن میں کھڑا کر دیا جاتا تھا وہی پر اب کچھ بہتری دیکھائی دینے لگی ہے۔
شیریں مزاری صاحبہ کے اس نیک قدم کی بدولت ہمارے معاشرے میں بزرگوں کو اب پہلے سے زیادہ عزت اور احترام دیا جانے لگا ہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک اور ہماری قوم میں کچھ ایسی چیز ہے جس سے ہمارے بوڑھوں اور ہمارے بزرگوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے چاہے وہ مالی مدد ہو یا چاہے وہ ان کا احترام ہو۔ لیکن آج کل کی نسل بزرگوں کے ادب و احترام سے ناواقف ہے. ہمیں چاہیے کہ ہم گھر کے بزرگوں کو اپنے معاملات میں شامل رکھیں تاکہ ان کی دعاؤں سے ہم اپنے آنے والے کل کو بنا کسی رکاوٹ کے سرخرو کر سکیں۔  اپنے بچوں کو گھر کے بزرگوں کے ساتھ صحیح طریقے سے پیش آنے کا عملی مظاہرہ کر کے دکھائیں تاکہ آنے والے کل میں آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.