امریکی افواج کے انخلا تک طالبان امن مزاکرات کو طول دینا چاہتے ہیں، افغان خفیہ ایجنسی

دوحہ: افغان حکومت کے مذاکرات کار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوحہ پہنچ گئے جبکہ کابل نے طالبان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ مذاکرات روک رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب تک دونوں فریقین کے درمیان کئی مہینوں سے جاری بات چیت کا فائدہ بہت کم سامنے آیا ہے تاہم فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اگلے دور میں کیا تبادلہ خیال کرنا ہے جسے ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
کابل سے دوحہ جانے والے افغان حکومت کے مذاکرات کاروں کے ایک گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم یہاں دوحہ میں ہیں اور دو گھنٹے پہلے پہنچے ہیں’۔
یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کب ہوگا۔
گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد میں طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے امریکی فوج کے زیر انتظام افغان حکومت کے مذاکرات کار مستقل طور پر جنگ بندی اور حکمرانی کے موجودہ انتظامات کے تحفظ کے لیے زور دیں گے۔
تاہم افغانستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ احمد ضیا سراج نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ طالبان مئی کے مہینے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا تک مذاکرات کو طویل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم طالبان کا امن کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا’۔
فروری 2020 میں طالبان اور واشنگٹن کے درمیان دستخط ہونے والے تاریخی معاہدے کے تحت امریکا نے مئی 2021 تک تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکا کے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے مذاکرات میں مزید تیزی لانے کا مطالبہ کیا کیونکہ واشنگٹن مذاکرات میں مزید پیشرفت پر زور دے رہا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار کا خاتمہ ہورہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘دونوں فریقین کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ جلد از جلد سیاسی سمجھوتے اور کسی معاہدے پر بات چیت کرکے افغان عوام کے مفاد میں کام کررہے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں