سانحہ مچھ : انتہائی سرد موسم میں بھی ہزارہ برادری کا احتجاج جاری

کوئٹہ: مچھ میں کان کنوں کے قتل کے خلاف ہزارہ برادری کا احتجاج جاری ہے اور انہوں نے مطالبات کی منظوری تک میتوں کو دفنانے سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے مچھ میں قتل کیے گئے کان کنوں کی میتوں کے ہمراہ مسلسل تیسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا۔

یہاں تک کہ انتہائی سرد موسم بھی مظاہرین اور بچوں سمیت مظاہرین کو مغربی بائی پاس کا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکا۔

واضح رہے کہ یہ تمام افراد 3 جنوری کی صبح مچھ کے علاقے میں 11 کان کنوں کے سفاکانہ قتل پر احتجاج کر رہے ہیں۔

ادھر مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے رہنما سید آغا رضا کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنا دھرنا ختم کرکے پیاروں کو تب تک نہیں دفنائیں گے جب تک وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر لواحقین سے ملاقات نہیں کرتے‘، مزید یہ کہ لواحقین کان کنوں کے خون پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ متوفی افراد کے اہل خانہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داروں کی گرفتاری اور جام کمال خان کی سربراہی میں بلوچستان کی اتحادی حکومت کو ہٹانے تک اپنے پیاروں کی میتیں دفنانے کو تیار نہیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت علی شاہوانی نے صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صوبے میں ہزارہ افراد پر دہشت گرد حملے اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی ہوئی۔

 انہوں نے بتایا کہ ’صوبے میں خود کش حملے اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی حکومت تھی جس نے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے لوگوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ پہلے ہزارہ ٹاؤن اور ایک اور علاقے تک محدود تھے لیکن اب یہ کہیں بھی آزادنہ گھوم سکتے ہیں یہاں تک کہ یہ تفریحی مقامات پر بھی لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں‘۔

ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مچھ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں صوبائی وزرا ظہور احمد بلیدی، سردار یار محمد رند، ضیااللہ لانگو اور مبین خلجی نے سوگواروں سے مذاکرات کیے اور انہیں دھرنا ختم کرنے اور میتوں کو دفنانے پر راضی کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

بعد ازاں رات گئے وزیر برائے سمندری امور علی زیدی اور وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری بھی خصوصی طیارے کے ذریعے وہاں پہنچے۔

ذرائع کے مطابق یہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر صوبائی دارالحکومت پہنچے تاکہ مظاہرین سے بات کرسکیں۔

تاہم ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہزارہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے کوئٹہ آمد متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں