انڈونیشیا کی نجی ایئرلائن کا طیارہ گر کر تباہ

انڈونیشیا میں نجی ایئرلائن سِری وِجایا ایئر کے طیارہ دارالحکومت جکارتہ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق بوئنگ 500-737 جہاز مغربی کلیمنتان صوبے کے شہر پونٹیانَک جارہا تھا، جو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی ریڈار سے لاپتہ ہوگیا تھا۔
شدید بارش کے باعث جہاز کی روانگی میں 30 منٹ تاخیر ہوئی تھی۔
انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ بودی کاریا نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ طیارے میں عملے کے 12 ارکان سمیت 62 افراد سوار تھے۔
ایک ویب سائٹ نے ان کے حوالے سے کہا کہ طیارہ ایئرپورٹ سے تقریباً 20 کلومیٹر دو لاکی جزیرے کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
ملک کی ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کا کہنا تھا کہ طیارے میں سوار تمام افراد انڈونیشی تھے۔
انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی ‘باسرناس’ کے سربراہ باگوس پُروہیتو نے کہا کہ جہاز کو شمالی جکارتہ کے پانیوں میں تلاش کرنے کے لیے ٹیمیں روانہ کردی گئی تھیں۔
ایجنسی نے کہا کہ کوئی ریڈیو بیکن سگنل نہیں ملا تھا۔
بعد ازاں ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سری وِجایا ایئر کی پرواز ‘ایس جے 182’ کے تباہ ہونے کے بعد اس میں سوار افراد کی تلاش میں مدد کے لیے ٹیم بھیجے گی۔
قبل ازیں ایجنسی کے ایک اور عہدیدار آگوس ہاریونو نے کہ ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ سمندر میں ملبہ ملا ہے جو جہاز کا ہونے کا شبہ ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی کہ آیا یہ اسی جہاز کا ہے یا نہیں۔
قابل اعتماد ٹریکنگ سروس ‘فلائٹ ریڈار 24’ نے ٹوئٹر پر کہا کہ سری وِجایا ایئر کی پرواز ‘ایس جے 182’ کی بلندی میں جکارتہ سے اڑان بھرنے کے بعد تقریباً 4 منٹ بعد ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 10 ہزار فٹ کی کمی آئی۔
ٹریکنگ ڈیٹا میں موجود رجسٹریشن تفصیلات کے مطابق لاپتہ ہونے والا بوئنگ 500-737 جہاز 27 سال پُرانا تھا۔
انڈونیشین ایئرلائن سری وِجایا ایئر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بیان سے قبل طیارے سے متعلق اب بھی تفصیلی معلومات جمع کر رہی ہے۔
ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو جیفرسن اَروِن نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ پرواز سے قبل جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی۔
27 سالا پُرانا بوئنگ 500-737 کمپنی کے اُس 737 میکس ماڈل سے بھی پرانا ہے جس میں خرابیاں سامنے آئی تھیں، جن میں سے ایک 2018 کے آخر میں جکارتہ کے باہر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں لائن ایئر کی پرواز کے تمام 189 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
بوئنگ کی ترجمان نے کہا کہ ‘ہم جکارتہ سے آنے والی میڈیا رپورٹس سے آگاہ ہیں اور قریب سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، ہم مزید معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں’۔
انڈونیشیا کے ٹیلی ویژن چینلز نے مشتبہ ملبے کی تصاویر بھی نشر کیں۔
ایک سیکیورٹی عہدیدار ذوالکفلی نے سی این این انڈونیشیا ڈاٹ کام کو بتایا کہ ‘ہمیں پانی میں کچھ تاریں، جینز کا ٹکڑا اور دھات کے ٹکڑے ملے ہیں’۔
ایک ماہی گیر کا بھی کہنا تھا کہ اسے اس کے عملے کو دھات کے متعدد ٹکڑے ملے ہیں۔
ادھر پونٹیانَک ایئرپورٹ پر طیارے میں سوار افراد کے رشتہ دار یہ خبر سن کر مخبوط الحواس ہوگئے۔
یَمان زائی، جن کے تین بچے اور اہلیہ طیارے میں سوار تھے، نے کہا کہ وہ ایئرپورٹ پر ان کا انتظار کر رہے تھے جب انہیں یہ خبر ملی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں