بوئنگ 737 مسافر طیارہ کہاں گرا، انڈونیشین بحریہ نے پتہ لگا لیا

انڈونیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں وہ مقام مل گیا ہے جس کے متعلق انھیں یقین ہے کہ ہفتے کے روز دارالحکومت جکارتہ سے اڑان بھرنے کے فورا بعد غائب ہونے والا بوئنگ 737 مسافر بردار طیارہ سمندر میں گرا تھا۔

سری وجائیا ایئر کے اس طیارے پر 62 افراد سوار تھے اور یہ طیارہ جکارتہ سے پونتیانک جا رہا تھا مگر اڑان بھرنے کے چار منٹ بعد ہی ریڈار سے غائب ہوگیا۔

حکام کے مطابق بحریہ کے غوطہ خوروں کے ساتھ 10 سے زائد کشتیاں بھی اس مقام پر بھیج دی گئی ہیں۔

تفتیش کار ان اشیا کا تجزیہ کررہے ہیں جن کے بارے میں یقین ہے کہ وہ گرنے والے جہاز کے ملبے کا حصہ ہیں۔

جکارتہ پولیس کے ترجمان یوسری یونس نے بتایا کہ سرچ اور ریسکیو ایجنسی سے دو بیگ ملے ہیں۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا ’پہلے بیگ میں مسافروں کی اشیا تھیں جبکہ دوسرے بیگ میں جسم کے اعضا موجود تھے۔ انھوں نے مزید کہا: ’ہم ان اشیا کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

رات کے وقت تلاش اور ریسکیو کی کوششوں کو روک دیا گیا تھا لیکن اتوار کی صبح سے کام دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ تلاش میں مدد کے لیے چار طیارے بھی تعینات کردیے گئے ہیں۔

لاپتہ طیارہ 737 میکس نہیں ہے، بوئنگ ماڈل جو مارچ 2019 سے لے کر گذشتہ دسمبر تک دو جان لیوا حادثات کے بعد گرائونڈ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ یہ جہاز بوئنگ 737 میکس نہیں ہے جس کے حالیہ برسوں میں دو بڑے حادثے پیش آ چکے ہیں۔

پہلا حادثہ سنہ 2018 میں انڈونیشین ایئر لائن کو پیش آیا تھا جس میں 189 مسافر اور عملے کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سری وجائیا ایئر کا یہ مسافر بردار طیارہ   ہفتے  ے روز مقامی وقت کے مطابق 14:36 ​​(07:36 GMT) پر جکارتہ ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق طیارے کے ساتھ آخری رابطہ کال سائن SJY182 مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 40 منٹ (عالمی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 40 منٹ) پر ہوا۔ عمومی طور پر جکارتہ سے بورنیو جزیرے کے مغرب میں واقع پونتیانک تک کی پرواز 90 منٹ کی ہوتی ہے۔

انڈونیشیا کی نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ باگس پروہیتو کے مطابق جہاز نے کوئی ہنگامی سگنل نہیں بھیجا۔

پروازوں کی ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تین ہزار میٹر (دس ہزار فٹ) نیچے آیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے کم سے کم ایک دھماکہ دیکھا اور سنا ہے۔

ایک مقامی مچھیرے سولیہین نے غیر ملکی میڈیا  کو بتایا کہ انھوں نے کریش ہوتے ہوئے دیکھا اور ان کی کشتی کے کپتان نے ساحل پر واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’جہاز سمندر پر بجلی کی طرح گرا اور پھر یہ پانی میں پھٹ گیا۔‘

‘یہ ہمارے بہت قریب تھا اور پلائی وڈ جیسے باریک ٹکڑے تقریباً میری کشتی سے ٹکرائے۔’

جہاں مسافر جہاز لاپتہ ہوا وہاں کے قریبی جزیرے کے لوگوں نے بی بی سی انڈونیشین سروس کو بتایا کہ انھیں ایسی اشیا ملی ہیں جو کسی طیارے کی ہو سکتی ہیں۔

طیارہ پرواز کے چند منٹ بعد ہی ریڈار سکرینز سے غائب ہوگیا

انڈونیشین بحریہ کو سنیچر کو طیارے کی تلاش پر مامور کر دیا گیا تھا۔ نیوی افسر عبدالرشید نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ بحریہ نے طیارے کی لوکیشن معلوم کر لی ہے اور کشتیاں وہاں بھیج دی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق طیارے میں 50 مسافر سوار تھے جو سب کے سب انڈونیشین تھے۔ ان میں سات بچے اور تین نوزائیدہ بھی شامل تھے۔ اور جہاز پر عملے کے 12 افراد بھی سوار تھے، حالانکہ اس طیارے کی گنجائش 130 مسافروں کی ہے۔

مسافروں کے لواحقین پونتیانک اور جکارتہ کے ہوائی اڈوں پر پریشانی کے عالم میں منتظر دکھائی دے رہے ہیں۔

یمن زئی نامی ایک شخص نے روتے ہوئے رپورٹرز کو بتایا: ’میری بیوی اور میرے تین بچے اس جہاز پر سوار تھے۔‘

’میری بیوی نے آج میرے نوزائیدہ بچے کی تصویر بھیجی تھی۔ میرا دل کیسے نہ ٹوٹتا؟‘

مسافروں کے لواحقین پونتیانک اور جکارتہ کے ہوائی اڈوں پر پریشانی کے عالم میں منتظر دکھائی دے رہے ہیں

’طیارہ 26 سال پرانا، مگر اچھی حالت میں تھا‘

اس طیارے کی رجسٹریشن کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ طیارہ 26 سال پرانا ہے۔

سری وجائیا ایئر کے چیف ایگزیکٹیو جیفرسن ارون جاوینا نے رپورٹرز کو بتایا کہ طیارہ اچھی حالت میں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ شدید بارش کی وجہ سے ٹیک آف 30 منٹ کے لیے تاخیر کا شکار ہوا۔

سنہ 2003 میں قائم ہونے والی سری وجائیا ایئر ایک مقامی بجٹ ایئرلائن ہے جو انڈونیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر مقامات تک سروس فراہم کرتی ہے۔

یہ طیارہ جکارتہ کے شمال میں 20 کلومیٹر دور لاپتہ ہوا۔ یہ مقام اس جگہ سے دور نہیں جہاں اکتوبر 2018 میں ایک اور طیارہ کریش ہوا تھا۔

انڈونیشیا کی لائن ایئرلائن کا طیارہ ٹیک آف کے 12 منٹ کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 189 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حادثے کی ذمہ داری طیارے کے ڈیزائن میں متعدد خامیوں کے ساتھ ساتھ ایئرلائن اور پائلٹس کی غلطیوں پر بھی ڈالی گئی تھی۔

یہ ان دو میں سے ایک کریش تھا جس کی وجہ سے ریگولیٹری اداروں نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ دسمبر میں سسٹمز میں خاصی تبدیلیوں کے بعد اس ماڈل نے دوبارہ پرواز کی۔