بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری

زرعی قوانین کے نفاذ پر سپریم کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود دلی کے نواح میں آج لوڑھی کے تہوار کے دن احتجاج کرنے والے کسانوں نے زرعی قوانین کی نقول جلائیں اور اپنی تحریک پوری شدت سے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب اور ہریانہ کے کسان 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے روز دارالحکومت دلی میں قومی پريڈ میں ٹریکٹر ریلی کے انعقاد کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ کئی شہروں سے کسانوں کے جتھے اپنے ٹریکٹوں کے ساتھ دلی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ کسان مزدور سنگرش سمیتی نے اپنی تحریک کو اور بھی تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے تین نئے زرعی قوانین کے جواز سے متعلق کئی عزرداریوں کی سماعت کرتے ہوئے گزشتہ روز ان قوانین کے اطلاق پر عارضی طور پر حکم امتناعی نافذ کر دیا تھا۔ عدالت عظمی نے کسانوں اور حکومت کے درمیان اس تنازع کو حل کرنے کے لیے ماہرین کی ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کسان تنظیموں نے زرعی قوانین کے نفاذ پر حمکم امتناعی جاری کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن انہوں نے عدالت عظمی کی تشکیل کردہ کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کسان یونین کے رہنما درشن سنگھ پال نے کہا کہ ‘یہ دراصل وقت حاصل کرنےکا عمل ہے۔ ہم اس کمیٹی کے صلاح و مشورے کے عمل میں شریک نہیں ہونگے۔’

کسان یونیوں نے اس پینل کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ کمیٹی کے سبھی ارکان نئے زرعی قوانین کے پرزور حامی ہیں۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ چار میں سے تین ارکان کا خیال ہے کہ احتجاجی کسانوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان قوانین کو واپس لیے جانے سے کم کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور ان کی تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک ان کے مطالبات نہیں مان لیے جاتے۔

نئے زرعی قوانین کے تحت اناج کی سرکاری منڈیوں کو نجی تاجروں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور اناج کی مقررہ سرکاری قیمت کی ضمانت ختم کر کے کسانوں کو اپنا اناج کہیں بھی فروخت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کل ایک غیر معمولی فیصلے میں زرعی قوانین کے نفاذ پر حکم امتناعی جاری کردیا ۔ غالباً یہ پہلا موقع ہے جب عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیے گئے کسی قانون کے آئینی جواز کا جائزہ لیے بغیر حکم امتناعی جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے ’میں بیس سال تک وکیل اور بیس برس تک ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جج رہا ہوں لیکن میرے اس طویل کیریئر میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی عدالت نے پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیے گئے کسی قانون کے اطلاق پر عارضی طور پر روک لگائی ہو۔’

عدالت عظمی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ماہرین کا پینل ثالثی نہیں کرے گا بلکہ دونوں فریقوں سے بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکالنے کی کو شش کرے گا۔ لیکن اس پینل کے ارکان وہ ماہرین ہیں جو بحث و مباحثوں اور مضامین میں مودی حکومت کے زرعی قوانین کی شدت سے حمایت کرتے رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے رہنما اور ماہر قانون ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے لیکن مذاکرات کے پینل میں جو ‘چونکانے والے نام آئے ہیں اگر ان کے خیالات کے بارے میں نہ معلوم ہوتا تو اس پینل کی اخلاقی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوتی۔’

نئے زرعی قوانین پر حکم امتناعی سے مودی حکومت کو وقتی طور پر سیاسی اور اخلاقی دھچکا ضرور پہنچا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد حکومت کو اس معاملے میں کسی حد تک مدد ملی ہے۔

فی الحال اس کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح کسانوں کو 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے روز دلی میں کسانوں کو ٹریکٹر ریلی کرنے سے روکے۔ کسان اس ریلی کے لیے پوری تیاریاں کر رہے ہیں۔ پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور کئی دیگر پڑوسی ریاستوں میں کسانوں کو اس ریلی کے لیے موبلائز کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے وجود کی لڑائی ہے۔

حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کے آٹھ دور ہو چکے ہیں جو ناکام رہے ۔ آئندہ دور کے مذاکرات 15 جنوری کو ہونے والے تھے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بات چیت کا یہ سلسہ بھی ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

کسانون کی یونین ہر قدم کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ حکومت کسی بھی طرح ان کی تحریک کو ختم کراناچاہتی ہے تاکہ وہ اپنی شرائط پر قوانین میں کچھ معمولی رد و بدل کر کے انہیں درکنا ر کر سکے۔

کسانوں کی طرح حکومت کا رویہ بھی کافی سخت ہے۔ وہ یہ قوانین ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اسے لگتا ہے کہ زرعی سیکٹر، بالخصوص منڈی، سبسڈی (امدادی قیمتوں) اور زرعی اجناس کی منڈی میں قیتوں کے تعین کے سلسلے میں ایک طویل عرصے سے اصلاح کی ضرورت تھی اور اگر وہ پیچھے ہٹ گئی تو یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مودی حکومت کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ کسان مخالف ہیں اور دوسری جانب وہ پیچھے ہٹ کر اپنی ایک سخت گیر اور مضبوط حکومت کی شبیہہ کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دینا چاہتی ۔

کسانوں اور حکومت کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی تبھی آ سکتی ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہو۔ فی الحال ایسے ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں