سپریم کورٹ: ڈینیئل پرل کیس کے مرکزی ملزم عمر شیخ کی رہائی کا حکم


سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کے خلاف حکومت سندھ کی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی رہائی کا حکم دیا تاہم بینچ کے ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اےا یف پی سے بات کرتے ہوئے ملزم کی پیروی کرنے والے وکیل محمود شیخ نے کہا کہ ‘عدالت نے کہا کہ ایسا کوئی جرم نہیں جو اس نے اس کیس میں کیا ہو’۔
اس سے قبل بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں ملزم عمر شیخ نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے امریکی صحافی کے قتل میں ‘معمولی سا کردار’ ادا کیا تھا۔
عمر شیخ کا 2019 میں تحریر کردہ ایک خط کہ جس میں اس نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ کے رپورٹ کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا وہ سپریم کورٹ میں 2 ہفتے قبل جمع کروایا گیا تھا تاہم ان کے وکیل نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ خط ان کے مؤکل نے ہی لکھا تھا۔
تاہم سندھ ہائی کورٹ کے نام تحریر کردہ اس 3 صفحات پر مشتمل خط میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے ملزم نے کہیں بھی یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ڈینیئل پرل قتل کیس میں اس کا مبینہ طور پر معمولی کردار کیا تھا۔
ڈینیئل پرل قتل کیس
یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔
تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔
تاہم 25 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ ‘پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز’ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
اس خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.