ہیکنگ یا سائبر اٹیک، پاکستان ریلوے کا الیکٹرانک سسٹم بیٹھ گیا


لاہور: پاکستان ریلوے کا ای ٹکٹنگ اور مالی اور ہیومن ریسورس کا الیکٹرانک سسٹم منگل کے روز بیٹھ گیا اور 2016 سے اب تک ڈیٹا ضائع ہونے کے خدشے کے پیش نظر 60 آن لائن بکنگ دفاتر مرکزی سرور سے منقطع ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابھی یہ پتا کرنا باقی ہے کہ یہ غلطی ہیکرز کے حملے کی وجہ سے یا سیکیورٹی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

پاکستان ریلوے انتظامیہ نے بتایا کہ انہوں نے نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن کے ہوسٹ سرور کا استعمال کر کے آن لائن نشستوں کی ریزرویشن کے نظام کو بحال کردیا ہے تاہم وہ مالیات، تنخواہوں، پنشنز وغیرہ سے متعلق اعداد و شمار کی دوبارہ بحالی کے لیے نظام کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان ریلوے کے آئی ٹی ڈائریکٹر فاروق اقبال ملک نے بدھ کے روز  میڈیا کو بتایا کہ ہم نے اپنے پاس دستیاب دیگر ایپلی کیشنز اور سرور استعمال کر کے ڈیٹا کو بازیافت کرنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے ٹیم اعداد و شمار کی بازیافت کر رہی تھی تب سے وہ نظام پر ہیکرز کے حملے کے امکان کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار بازیافت کرنے کے بعد ہم نظام کی ناکامی کی وجوہات تلاش کرنا شروع کردیں گے۔

ایک سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ اچانک یہ نظام شٹ ڈاؤن کے موڈ میں چلا گیا۔

اس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی آر انتظامیہ نے آئی ٹی کے کچھ ماہرین کو بھی ڈیٹا بازیافت کرنے کے لے بلایا تھا اور صورتحال کو سمجھنے کے لیے نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن کے ہوسٹ سرور کا استعمال کیا۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2019 میں آئی ٹی کی سابقہ ​​ٹیم نے لنک ڈاؤن، ختم ہونے، سائبر اٹیک وغیرہ سے متعلقہ مسائل کو روکنے کے لیے سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کے سلسلے میں فنڈز مانگنے کی تجویز پیش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن پاکستان ریلوے نے اس تجویز کی طرف توجہ نہیں دی اور اس کے نتیجے میں معاملات بڑھنے لگے، ماہر نے بتایا کہ بعدازاں پاکستان ریلوے نے گزشتہ جنوری میں ایک آئی ٹی ڈائریکٹر کی خدمات حاصل کیں جسے چھ ماہ بعد ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا، جب پاکستان ریلوے کے چیئرمین ڈاکٹر حبیب الرحمن گیلانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ 35 مقامات پر ای ٹکٹنگ دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان ریلوے انتظامیہ کو اپنی ‘صلاحیتوں’ پر بھروسہ کرنے کے بجائے نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن کو پہلے ہی اس معاملے میں شامل کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا، یہ ہمارے عہدیداروں کی لاپرواہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سسٹم کی ناکامی کے پیچھے اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.