وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی اہم معاملات پر بات چیت


اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکا کے نو منتخب سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی جے بلنکین نے ٹیلی فونک گفتگو کی اور دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل اور ڈینیئل پرل قتل کیس پر تبادہ خیال کیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے انٹونی جے بلنکین کو سیکریٹری آف اسٹیٹ کا دفتر سنبھالنے پر مبارک باد دی اور امریکا کے ساتھ مختلف معاملات پر مفادات کے استحکام پر مبنی وسیع شراکت داری قائم کرنے کے پاکستان کے عزم کی تائید کی۔

واضح رہے کہ انٹونی بلنکین نے 26 جنوری کو 71 ویں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کا حلف اٹھایا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے ’پاکستان میں تبدیلی‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا ایک نیا وژن ہے جس نے’معاشی شراکت داری، پڑوسیوں کے ساتھ امن قائم کرنے اور علاقائی تعاون کو بڑھانے پر توجہ دی‘۔

شاہ محمود قریشی نے سیکریٹری اسٹیٹ کو بتایا کہ مذاکراتی سیاسی حل کے ذریعے افغانستان میں امن دونوں ممالک کے درمیان ’بنیادی ہم آہنگی‘ میں سے ایک ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کو بتایا کہ تشدد میں کمی ضروری تھی تاکہ یہ افغانستان میں جنگ بندی اور جامع سیاسی حل کے لیے کام کا سبب بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں سہولت فراہم کی اور امن کے لیے شراکت دار کے طور پر امریکا کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کے ساتھ ساتھ اس کے ’پختہ اقدامات‘ پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے یاد دلایا کہ پاکستان اور امریکا کی تعاون کی طویل تاریخ ہے، ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لوگوں کی دی گئی قربانیوں کو تسلیم کیا۔

دوران گفتگو امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں وزیر خارجہ نے زور دیا کہ قانونی تقاضوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں حکام کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری انٹونی جے بلنکین نے رابطوں میں رہنے اور دوطرفہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور خطے اور اس کے علاوہ ایک جیسے مفادات کے فروغ کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے ایک ٹوئٹ بھی کی گئی جس میں لکھا گیا کہ ’انہوں نے ڈینیئل پرل کے کیس میں سزایافتہ دہشتگرد احمد عمر سعید شیخ اور دیگر ذمہ داروں کے لیے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے شاہ محمود قریشی سے بات کی’۔

انہوں نے لکھا کہ ’وزیر خارجہ اور میں نے خطے کے استحکام کی حمایت میں امریکا-پاکستان میں جاری تعاون کی اہمیت پر زور دیا’۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدر آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور مارچ میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 2 اپریل کو سنایا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا جو کہ وہ پہلے ہی پوری کرچکے تھے۔

تاہم رہائی کے احکامات کے فوری بعد ہی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے سندھ حکومت کو خط لکھا تھا جس میں ملزمان کی رہائی سے نقصِ امن کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

چنانچہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت صوبائی حکام نے انہیں 90 دن کے لیے حراست میں رکھا تھا، یکم جولائی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت مزید تین ماہ کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ان کی قید میں مزید توسیع ہوتی رہی۔

تاہم 25 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں رہا ہونے والے چاروں ملزمان کو زیر حراست رکھنے کے لیے صوبائی حکام کے جاری کردہ ‘پریوینشن ڈیٹینشن آرڈرز’ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومت سندھ اور صحافی کے اہلِ خانہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

جن پر 28 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک کے مقابلے 2 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.