ایران نے نسل پرست شخص کو پھانسی دے دی


تہران : عدالتی ویب سائٹ کے مطابق ایران میں ایک شخص کو قتل، اغوا اور ‘دہشت گرد’ رابطوں کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں میزان آن لائن کے حوالے سے بتایا گیا کہ جاوید دہقان خالد نامی شخص کو صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوب مشرقی علاقےمیں علی الاصبح پھانسی دی گئی۔

یہ سزا ایسے وقت دی گئی جبکہ ایک روز قبل اقوامِ متحدہ نےایران سے اپیل کی تھی کہ 31 سالہ شخص کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔

میزان آن لائن نے کہا کہ جاوید دہقان کو جون 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں عسکری گروہ ‘جیش العدل’ سے منسلک ایک دہشت گرد گروہ کے رہنما ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔

ویب سائٹ کے مطابق جاوید دہقان کو محمد عمر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا انہیں ‘ریاست کے خلاف مسلح کارروائی’ میں ملوث پایا گیا تھا۔

جاوید دہقان سال 2015 میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے 2 اراکین کے قتل میں بھی ملوث پائے گئے اس کے علاوہ انہوں نے 5سرحدی محافظین کو اغوا کرنے کے لیے ایک مسلح حملے کی بھی سربراہی کی تھی جس میں ایک محافظ مارا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے حالیہ پھانسیوں کے سلسلے پر ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ایران پر سزائے موت روکنے کے لیے زور دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ‘ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ جاوید دہقان کی سزائے موت فوری طور پر روکی جائے تا کہ انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ان کے اور سزائے موت کے دیگر کیسز پر نظِر ثانی کی جائے’۔

بیان میں کہا گیا تھا ‘ہم پھانسی کے سلسلے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں دسمبر کے وسط سے اقلیتی گروہ افراد سمیت کم از کم 28 افراد کو سزائے موت دی جاچکی ہے’۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا کہ جاوید دہقان کے مقدمے کی کارروائی ‘بے حد نامنصفانہ’ تھی، عدالت نے ‘تشدد زدہ اعتراف’ پر انحصار اور تفتیش کے دوران بدسلوکیوں کو نظر انداز کیا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.