فحش مواد کی حامل سائٹس سمیت کل9 لاکھ 80 ہزار لنکس بلاک کر دئیے،پی ٹی اے


اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ جنوری 2021 تک انہوں نے نفرت انگیز تقریر، متنازع اور قابل اعتراض مواد پر مشتمل 9 لاکھ 80 ہزار لنکس بلاک کردیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ بلاک کیے گئے اس مواد میں بھاری اکثریت فحش مواد کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فحش ویب سائٹس کے 8 لاکھ 65 ہزار 187 کو بلاک کیا گیا۔

اس کے علاوہ ملک کی دفاعی فورسز اور قومی سلامتی کے خلاف نفرت انگیز مواد پر مبنی ویب سائٹس بلاگز کے 16 ہزار سے زائد لنکس ہٹائے گئے جبکہ فرقہ وارانہ مواد پر مبنی 22 ہزار لنکس کو بلاک کیا گیا۔

پی ٹی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ معروف سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سے مواد ہٹانے کے لیے اتھارٹی نے متعلقہ ویب سائٹس کی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کی ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ رکھنے کے تناظر میں پی ٹی اے وزارت دفاع اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اس میں کہا گیا کہ ٹیلی کمیونکیشن کمپنیزکو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ویب منیجمنٹ سسٹم انسٹال کریں جو گرے ٹریفک کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتھارٹی برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کے تحت ویب پیجز، یو آر ایلز اور لنکس وغیرہ بلاک کرسکتی ہے۔

اتھارٹی کا کہنا تھا کہ آن لائن شکایت پورٹل قائم کیا گیا ہے اور وفاقی اور صوبائی حکومت کے 36 محکموں سمیت اسٹیک ہولڈرز کو اس پورٹل تک رسائی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 26 جنوری کو ہی پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے نیٹ فلکس کی فلم کے گستاخانہ مواد کے 778 لنکس میں سے 452 کو بلاک کردیا۔

اس سلسلے میں بھی پی ٹی اے نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’گستاخانہ‘ فلم اپ لوڈ کرنے پر نیٹ فلکس کو مستقل طور پر بند کرنا چاہیے جبکہ گوگل، یوٹیوب اور فیس بک کو پاکستان میں 6 ماہ کے اندر فرنچائزز کھولنے کی ہدایت کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی اے نے عدالت میں یہ بتایا تھا کہ ناپسندیدہ مواد بلاک کرنے کے تناظر میں معروف سوشل میڈیا ویب سائٹس کو پاکستان میں اپنا دفتر قائم کرنے کا کہا تھا۔

اس میں کہا گیا تھا کہ ایک مرتبہ یہ دفاتر پاکستان کی حدود میں کھل گئے تو پاکستان ریگولیشنز نافذ کرسکتا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.