علمائے دین نے کورونا ویکسین کے بارے میں بڑا بیان دے دیا


واشنگٹن: مسلمان علما کے ایک گروپ اسمبلی آف مسلم جیورسٹ آف امریکا (اے جے ایم اے) نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ کووِڈ 19 کی ویکسین اسلام میں نہ صرف جائز ہے بلکہ لازمی ہے کیوں کہ اس میں ایک انتہائی مہلک مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کی صلاحیت ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (اِکنا) نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا تھا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ چونکہ ویکسین کا مقصد ایک مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اس لیے ویکسین لگوانے پر کوئی مذہبی پابندی نہیں ہے۔

سیمینار میں شرکت کرنے والے علما اور ڈاکٹروں نے کہا کہ کورونا وائرس بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں 22 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ اس وبا سے 10 کروڑ 2 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔

فتوے میں اے جے ایم اے نے وضاحت کی کہ ‘مذکورہ بالا معلومات اور دنیا کو درپیش خطرے کی نوعیت کی وجہ سے ویکسین کو جائز بنانے کے لیے تشخیصی خطرات کافی نہیں ہیں، اور کم از کم جو کہا جاسکتا ہے وہ یہ کہ یہ مشروع ہے: جائز ہے یا لوگوں کے لیے لگوانے کی سفارش کی جاتی ہے’۔

فتوے میں کہا گیا کہ ‘جہاں تک صحت عامہ کے حکام کی بات ہے تو لوگوں کے فائدے اور تحفظ کے لیے اسے مہیا کرنا ان کی ذمہ داری ہے’۔

اے جے ایم اے میں مختلف مسلمان اقوام سے تعلق رکھنے والے اسلامی علما شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کو روکنے کا واحد راستہ اجتماعی مدافعت ہے جس کے لیے تقریباً 70 فیصد لوگوں میں قوت مدافعت ہونا ضروری ہے۔

فتوے میں وضاحت کی گئی ہے کہ قوت مدافعت کی یہ سطح 2 طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے ایک انفیکشن کو روکے بغیر پھیلنے دیا جائے دوسرا لوگوں کو اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے۔

علما کا کہنا تھا کہ پہلا طریقہ شریعت کے مطابق نہیں کیوں اس میں لوگوں، خاص طور پر کمزور افراد کی جانوں کے لیے خطرہ ہے اور یہ انسانی جان بچانے کی اسلامی تعلیمات سے براہ راست متصادم ہے۔

علما نے دلیل دی کہ ‘دوسرا طریقہ ویکسینیشن کے ذریعے جو شریعت اور استدلال سے مماثلت رکھتا ہے، کسی بیماری کو روکنے ختم کرنے یا متوقع بیماری سے بچاؤ کی دوا لینا اہلِ علم کے اتفاق رائے سے جائز ہے’۔

فتوے میں مزید کہا گیا کہ کووِڈ 19 ویکسین نہ صرف جائز ہے بلکہ لازمی ہے، یہ نکتہ کہ کیا یہ لازمی ہے یا نہیں، متعدد فقہا نے اس معاملے کو تفصیل سے بیان کیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بیماری دوسروں کو نقصان پہنچائے تو اس کی دوا لینا لازم ہے اور یہ صورت کووِڈ 19 کے معاملے میں بھی قابل اطلاق ہے کیوں کہ یہ انتہائی متعدی ہے۔

قبل ازیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی فتویٰ کونسل نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ویکیسن حلال ہے۔

اس فتوے میں یو اے ای کے علما نے بھی اس دلیل کو مسترد کردیا تھا کہ کچھ ویکسین میں جیلاٹن موجود ہے اس لیے یہ حرام ہے۔

علما نے دلیل دی تھی کہ کچھ ویکسین میں جو عنصر استعمال کیا جارہا ہے وہ دوا ہے کھانے کی چیز نہیں اور زندگی بچانے کی ضرورت سور کے گوشت کی ممانعت جیسی کسی بھی عام مذہبی پابندی کی جگہ لے لیتی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.