فیس بک انتظامیہ آسٹریلیا سے ناراض ہو گئی


رپورٹ: خضر منظور

فیس بک کی انتظامیہ آسٹریلیا سے خبریں چلانے کے عوض پیسے مانگنے کے نئے قانون پر ناراض ہو گئی۔

فیس بک نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آسٹریلیا کے لئے نیوز سروس معطل کردی، اب آسٹریلیا میں موجود فیس بک صارفین نہ نیوز شئیر کر سکتے ہیں نہ ہی انہیں نیوز اپ ڈیٹس میسر ہوں گی۔

مذکورہ فیصلہ آسٹریلوی حکومت اور سوشل میڈیا سائٹ کے درمیان متنازعہ قانون کے باعث کیا گیا۔

متنازعہ قانون کے مطابق خبریں شئیر کرنے کے لئے سوشل میڈیا سائٹس کو آسٹریلیا کو ادائیگی کرنا ہو گی۔

فیس بک کے گلوبل نیوز پارٹنر شپ کے نائب صدر کیمپبل براؤن نے اپنے بلاگ میں لکھا “آسٹریلیا میں متعارف کرایا گیا مجوزہ نیا قانون فیس بک اور ناشران کے درمیان تعلق کے بنیاد سمجھنے میں ناکام ہے،کچھ لوگ جو تجویز کریں لیکن فیس بک خبریں چوری نہیں کرتا، ناشران خود فیس بک پر اپنی کہانیاں شیئر کرتے ہیں، مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ایک بار پھر ہم آسٹریلوی صارفین کے لئے خبریں شامل کریں گے”۔

فیس بک ان اقدامات سے غیر ملک میں مقیم آسٹریلین شہری بھی اب فیس بک پر چھپنے والی آسٹریلیا کی خبروں سے باخبر نہیں رہ سکیں گے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے فیس بک کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا کمپنیوں کی انتہائی مارکیٹ پاور سے تعبیر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ماہانہ ایک کروڑ ستر لاکھ آسٹریلوی باشندے فیس بک استعمال کرتے ہیں۔


اپنا تبصرہ بھیجیں