شیطانی جوتے بنانے پر نائیکی نے کمپنی پر ہرجانے کا دعوی کر دیا

رپورٹ: خضر منظور


نائیکی کے مطابق شیطانی جوتوں میں انسانی خون کا قطرہ بھی شامل ہے۔ جوتے نائیکی کے ڈیزائن کردہ جوتوں کی بلا اجازت کاپی کر کے بنائے گئے۔

ملبوسات اور جوتے بنانے والی امریکی کمپنی نائیکی نے فنون لطیفہ کی فلاحی تنظیم بروکلین آرٹ کولیکٹو ایم ایس سی ایچ ایف کے خلاف ایک متنازع شیطانی جوتا بنانے پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

نائیکی کا کہنا ہے کہ جوتے بنانے میں کمپنی کے جملہ حقوق چوری کیے گئے ہیں۔ ان جوتوں کے تلووں میں لال سیاہی ڈالی گئی ہے جس میں انسانی خون کا ایک اصل قطرہ شامل کیا گیا ہے۔ آرٹ کولیکٹر نے نائیکی کمپنی کے تیار کردہ جوتوں میں تبدیلی کرکے ایسا جوتا تیار کیا ہے جس پر الٹی صلیب اور پانچ کونوں والا ستارہ بنایا گیا ہے اور جوتوں پر انجیل کے الفاظ ’لیوک 10:18‘ واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کو ایم ایس سی ایچ ایف نے موسیقار ریپر لِل ناس ایکس کے ساتھ مل کر ایسے 666 جوڑے ریلیز کیے جو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فروخت بھی ہو گئے۔

نائیکی نے اپنے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی اور جملۂ حقوق چوری کرنے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ کالے اور سرخ رنگ کے یہ جوتے پیر کو متعارف کروائے گئے جب لِل ناس ایکس کا نیا گانا مونٹیرو کال میں بائی یورنیم جمعے کو یوٹیوب پر ریلیز ہوا۔

میوزک ویڈیو میں گلوکار نے یہی متنازع جوتے پہن رکھے ہیں اور وہ ایک کھمبے سے نیچے اترتے دیکھائی دیتے ہیں جو کہ علامتی طور پر ان کے جنت سے دوزخ میں گرنے کا عمل ہے۔ شیطانی خاکے کے ساتھ ان جوتوں پر بائبل کی آیت لیوک 10:18 کا حوالہ درج ہے کہ ’اس نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے شیطان کو جنت سے بجلی کی طرح گرتے دیکھا ہے۔‘

ہر جوتا نائیکی کے خاص انداز پر تیار کیا گیا ہے، جن کے تلوے کافی نرم ہوتے ہیں۔ اس میں 60 کیوبک سینٹی میٹر سرخ سیاہی استعمال ہوئی ہے اور ایک قطرہ انسانی خون کا شامل ہے جو آرٹ کولیکٹو کے ممبران نے عطیہ کیا ہے۔

نائیکی نے نیو یارک میں امریکہ کی ایک عدالت کو بتایا کہ اس نے اس طرح کے شیطانی جوتے بنانے کی نہ منظوری دی نہ ہی ان کو بنانے کے اختیارات دیے ہیں۔ نائیکی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایم ایس سی ایچ ایف کو جوتے فروخت کرنے سے روکا جائے اور اسے کمپنی کا مشہور ڈیزائن مارک بھی استعمال نہ کرنے دیا جائے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.