رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی، محفوظ قدم


رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ان کاروباروں میں سے ایک ہے جس کا عالمی حجم کھربوں ڈالر ہے۔ رئیل اسٹیٹ بلاشبہ ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جس نے چالیس سے زائد دیگر شعبوں میں روزگار کے کروڑوں مواقع پیدا کیے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال دو ہزار انیس کی آخری سہ ماہی میں اس کاروبار کا حجم 329 ارب ڈالر رہا۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی رئیل اسٹیٹ کا شمار چند بڑے شعبوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد افراد رئیل اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں بننے والی ہاوسنگ سوسائٹیز اور گیٹڈ کمیونٹیز کے تصور نے لوگوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی طرف راغب کر دیا ہے، جس کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اس شعبے کو قانون کے دائرے میں لانے میں غیرضروری تاخیر کی گئی جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر ٹیکس کا نقصان اٹھانا پڑا ۔ مگر کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لائی جو نہ صرف رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو دستاویزی بنائے گی بلکہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کی رجسٹریشن بھی کرے گی۔

اس ضمن میں پاکستان کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ایک مسودہ تیار کیا جسے وفاقی حکومت نے اکتوبر 2020میں منظور کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو دستاویزی بنانے کے لیے لیے انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔
اس مسودہ کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

• وفاقی حکومت ریگولیٹری باڈی کا چیئرمین مقرر کرے گی۔

• رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے کسی بھی قسم کی پراپرٹی فروخت کرنے کے لیے اتھارٹی کے ساتھ اندراج لازمی ہوگا۔

• رئیل اسٹیٹ کے کسی بھی منصوبے پر کام شروع کرنے سے پہلے ڈویلپرز کو بھی ریگولیٹری باڈی سے منظوری لینا لازم ہوگا۔

• منظوری کے لئے ڈویلپرز کو اپنے مستقبل کے منصوبوں کے ساتھ تمام سابقہ اور موجودہ رئیل اسٹیٹ پرواجیکٹس سے متعلق تفصیلات جمع کروانی ہوں گے۔

• قوانین کی خلاف ورزی پر اتھارٹی لائسنس منسوخ کرنے کی مجاز ہوگی۔

• رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی ریل اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ ان افراد کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی جنہیں جائیداد الاٹ کی گئی ہو۔

• سول عدالتیں جائیداد سےمتعلق وہ معاملات نہیں سنیں گی جو متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ کار میں آئیں۔

• ڈویلپرز کو کسی بھی رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ پر کام شروع کرنے سے پہلے ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنا لازم ہوگا۔ منظوری کے بغیر مارکیٹر کو جائیداد فروخت کرنے یا اس منصوبے سے متعلق اشتہار شائع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات پڑیں گے اور رئیل اسٹیٹ مالکان اور شہریوں کو اس کے قیام سے کیا فوائد حاصل ہوں گے، اس حوالے سے شعبہ معاشیات سے منسلک جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائیریکٹر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے بنیادی طور پر تین چار بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور کنسٹرکشن سیکٹر میں پراپرٹی ڈیلرز ہیں اور دوسرے پلیرز ہیں، ایک تو ان کی رجسٹریشن کی ضرورت پوری ہو جائے گی، اور اس میں بہت سے مشکوک پلیرز ہیں وہ نکلنا شروع ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے طریقہ کار اور قابلیت کی بنیاد پر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا حصہ بنا جا سکتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بینکنگ سیکٹر کو اعتماد ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں آنا چاہتے ہیں، چاہے وہ ادارہ جاتی سرمایہ کار ہوں یا غیر ملکی سرمایہ کار ان کو اعتماد چاہئے ہوتا ہے، یہ ریگولیٹری اتھارٹی بدعنوانیوں کے ساتھ تمام مسائل پر نظر رکھے گی تا کہ صارفین کا استحصال نہ ہو۔

ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق اتھارٹی سے مالیاتی شعبے کو اعتماد حاصل ہو گا اور نئے مالی منصوبوں کا آغاز ہو سکے گا،جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو محفوظ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں collateral acceptance کا مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اس اتھارٹی کے قیام سے اس طرح کے مسائل پر قابو پانے کا فائدہ حاصل ہو گا۔

ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ حکومت کے لیے ریونیو کا حصول بھی اہم ہے۔ اس اتھارٹی کے ذریعے حکومت کو بہتر طریقے سے مارکیٹ اور اس کی ضروریات کا اندازہ ہو گا۔ حکومت نہ صرف بہتر طریقے سے اس شعبے کی دستاویز کرپائے گی، بلکہ اگر ریگولیٹری اتھارٹی کی مدد سے ڈاکیومینٹیشن کی جائے، تو حکومت کے وفاقی اور صوبائی سطح پر محصولات میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

چیئرمین آل پاکستان رئیل اسٹیٹ طاہر محمود نے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہترین فیصلہ ہے جس سے رئیل اسٹیٹ کے تمام پراجیکٹس رجسٹرڈ ہونگے اور ان پراجیکٹس کا پیسہ انہیں پر خرچ ہو گا۔شہریوں کو اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ ان کا پیسہ محفوظ رہے گا اور پروجیکٹ وقت پر فراہم ہو گا۔پراجیکٹس رجسٹرڈ ہوں گے، جن کی مونیٹرنگ ہو گی اور اگر کسی کوئی شکایات ہوئیں تو اس کے لئے عدالتی نظام رائج کیا جائے گا۔

رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے مالک اور خریدار، دونوں کے حقوق کا تحفظ ملے گا۔ روز مرہ کی خرید وفروخت سے جُڑے تنازعات کو پیشہ ورانہ طریقے سے اور بروقت حل کیا جاسکے گا اور لوگ سرمایہ کاری کی طرف توجہ دیں گے۔ قابل ذکر با ت یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی کڑی شرط بھی تھی تاکہ ریئل اسٹیٹ کےشعبے میں کالا دھن روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد کے شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے والے لوگ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں لہذا حکومت پاکستان کو ان کے لئے خصوصی مراعات کے پیکج کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس سے نہ صرف ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا بلکہ اس شعبے کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.