کسانوں کو ریلیف نہ دینے اور باہر سے مہنگی گندم درآمد کرنے پر حکومتی اراکین پھٹ پڑے


کسانوں کو ریلیف نہ دینے اور باہر سے مہنگی گندم درآمد کرنے پر حکومتی اراکین بھی پھٹ پڑے ۔

کسانوں کو ریلیف فراہم نہ کرنے پر حکومتی اراکین کا پارہ لبریز ہوگیا ۔اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت ہونیوالے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ، کابینہ میں غیر منتخب اراکین کی بات سنی جاتی ہے۔ بزنس مین کو سبسڈی دینے کی تجاویز آتی ہیں۔ حکومت 2400 روپے فی من میں گندم درآمد کررہی ہے مگر اپنے کسان کو ریلیف فراہم کرنے کو تیار نہیں۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، ملک فاروق اعظم اور دیگر نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کسان پیکیج کے تحت کاشتکار کو کچھ نہیں ملا ، گندم کی امدادی قیمت 2 ہزارروپے فی من مقرر کی جائے۔ بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے۔ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے کہاکہ زرعی سیکٹر کو کوئی ریلیف نہ ملا،،ڈی اے پی 5 ہزار تک چلی گئی ہے۔

وزیر خزانہ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ڈی اے پی انٹرنیشنل پرائس کے تحت بڑھا،سپورٹ پرائس کا اثر آٹے کی قیمت پر بھی پڑتا ہے اسے بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

وزیر فوڈ سکیورٹی فخر امام کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں نے گندم سیزن میں پیسہ بنایا ، مگر آج تک ذخیرہ اندوزوں کا پتہ نہیں چلا سکا کپاس کی امدادی قیمت کے لیے کابینہ میں سمری پیش کی جسے مسترد کر دیا گیا ۔

وزیر خزانہ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے سے ڈی اے پی مہنگی ہوئی ، حکومت نے گندم اور گنے کی امدادی قیمت کو بڑھایا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.