غربت کےباعث بچوں کو نجی سے سرکاری سکولوں میں منتقل کرنے کا رجحان بڑھنے لگ گیا


   کورونا وبا کے سبب لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار اور نوکری پیشہ افراد سبھی کی آمدنی متاثر ہوئی ہے جس کا اثر بچوں کی پڑھائی پر آیا ہے۔ اکثر والدین کے لیے سکول کی فیس دینا مشکل ہوگیا ہے۔

ایسے میں کراچی کے ضلعی وسطی میں سرکاری سکولوں کی انرولمنٹ میں اضافہ ہوا ہے، والدین بچوں کو نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری اور فلاحی سکولوں میں داخل کروا رہے ہیں۔

شہر قائد کے علاقے انچولی میں علامہ اقبال گورنمنٹ سکول کے احاطے میں پانچ مختلف سرکاری سکول قائم ہیں جس میں بوائز پرائمری، گرلز پرائمری، بوائز سیکنڈری اور گرلز سیکنڈری سکول شامل ہیں۔

اسی احاطے میں گورنمنٹ فل برائٹ بوائز پرائمری سکول فیڈرل بی ایریا بھی قائم ہے، گذشتہ ایک سال کے دوران اس سکول میں 150 سے زائد بچوں نے مختلف کلاسز میں داخلہ لیا۔ سکول کی ہیڈ مسٹریس شہلا مسعود نے بتایا کہ ان کے سکول سے متصل علاقے میں زیادہ تر آبادی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اور مزدور پیشہ افراد کی ہے۔

’یہ گھرانے پہلے ہی بڑی مشکلات سے اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں پڑھا رہے تھے، لاک ڈاؤن کے باعث اسے جاری رکھنا تقریباً نا ممکن ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم جاری رکھنے کے لیے سرکاری سکولوں کا رُخ کیا ہے، اور صرف انہیں کے سکول میں مختلف کلاسز میں 150 کے قریب طلبہ نے داخلہ لیا ہے۔‘

قریب واقع ایک اور سرکاری سکول کی استانی غزالہ خورشید کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پڑھائی کا خرچ اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کہ اب آن لائن پڑھائی کے لیے کمپیوٹر ڈیوائسز، انٹرنیٹ اور دیگر چیزیں درکار ہوتی ہیں جو کہ اضافی خرچ ہے جس کا بوجھ والدین کے لیے بسا اوقات نا قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ ایسے میں والدین اکثر نا چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کا سکول تبدیل کروانے پر مجبور ہیں۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ والدین کی اکثریت نے تواتر سے یہ شکوہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پرائیوٹ سکول مالکان کو بچوں کی فیسوں میں ریلیف دینے کے حوالے سے متعدد اعلانات کے باوجود نجی سکولوں نے حکومتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا۔

کچھ دن قبل کراچی کے ایک نجی سکول کی طالبہ کو سکول انتظامیہ نے مبینہ طور پر اس لیے ہراساں کیا تھا کہ اس کے والد نے سات مہینوں سے فیس جمع نہیں کروائی تھی۔ بچی کے والد نے اس بابت تھانے میں رپورٹ جمع کروائی اور بتایا کہ ’ان کی بیٹی کو سارا دن کلاس سے باہر رکھا گیا، اور بچی کو لنچ باکس بھی نہیں دیا گیا۔‘

والد کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدن متاثر ہوئی اس لیے فیس دینے میں تاخیر ہوئی، تاہم وہ سکول کو چار مہینوں کی بقایا فیس جمع کروا چکے ہیں پھر بھی سکول انتظامیہ نے ایسی حرکت کی۔

کورونا وبا کے دوران سکولوں کی انرولمنٹ اس لیے بھی متاثر ہوئی کہ بہت سے مزدور پیشہ والدین جو بچوں کو فلاحی سکولوں میں پڑھا رہے تھے، انہوں نے بچوں کو کام میں ساتھ لگا لیا کیوں کہ اس کے بغیر ان کے لیے خرچے پورے کرنا مشکل تھا۔

پاکستان یوتھ آرگنائزیشن کے عہدیدار صبیح الحسن نے بتایا کہ ان کے ادارے کے تحت سینکڑوں بچے ایسے پڑھتے ہیں جن کے والدین دیہاڑی دار مزدور ہیں، اور بچے بھی کام میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ’کورونا لاک ڈاؤن سے پہلے تو وہ بچوں کو تعلیم کے لیے بھیج دیتے تھے، تاہم لاک ڈاؤن میں آمدنی متاثر ہونے کے بعد اب وہ بچوں کو سارا وقت ہی کام پر لگاتے ہیں۔ اور ویسے بھی مزدور، دیہاڑی دار طبقے سے آن لائن تعلیم کی توقع رکھنا ان کے حالات پر تمسخر کرنے کے مترادف ہے۔‘

صبیح الحسن نے بتایا کہ ’ان کے فلاحی ادارے میں ریڑھی بان، موچی، درزی، حتیٰ کہ کچرا چننے والوں کے بچوں کو بھی مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ بچے سکول کے فارغ اوقات میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں تو ان کے گھروں کا خرچ چلتا ہے۔ ایسے میں لاک ڈاؤن میں ان کے والدین نے بچوں کو پورے دن کے لیے کام میں ساتھ لگا لیا ہے تاکہ وہ ہنر سیکھ کر کچھ کما سکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’لاک ڈاؤن نے ان بچوں سے تعلیم چھین لی۔‘


Leave A Reply

Your email address will not be published.