کئی وزیروں کو بھی نہیں پتا کہ اڑھائی سال سے معاشی تنگی کیوں ہے،وزیراعظم


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’کئی وزیروں کو بھی نہیں پتا کہ اڑھائی سال سے معاشی تنگی کیوں ہے تاہم اب حکومت پیسے کے حصول کے لیے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔‘

اسلام آباد کے علاقے فراش ٹاؤن میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت فلیٹس کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’گزشتہ اڑھائی سالوں میں حکومت نے 35 ہزار ارب روپے قرضوں کی واپسی کی مد میں خرچ کیے جبکہ پچھلی حکومت نے اپنے پہلے اڑھائی سالوں میں 20 ہزار ارب روپے قرضوں کی واپسی میں خرچ کیے۔‘

انہوں نے کہا کہ جو 15 ہزار ارب روپے حکومت نے اضافی خرچ کیے وہ اگر سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جاتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔

اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وزیروں کو بھی نہیں پتا کہ کیوں اڑھائی سال ہم نے تنگی میں گزارے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے معیشت کو درست طریقے سے نہیں چلایا گیا اور ملک پر قرضے چڑھتے جا رہے ہیں جبکہ دولت نہیں پیدا ہو رہی۔‘

وزیراعظم عمران خان کے مطابق حکومت لاہور اور کراچی میں دو نئے شہر بسانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس سے ’دولت میں اضافہ ہو گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ سے دیگر 30 صنعتیں بھی چلنا شروع ہو جائیں گی۔
’ابھی بھی ملک میں تعمیرات کی صنعت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے ماہ تاریخ میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی فروخت دیکھنے میں آئی۔‘

وزیراعظم نے بتایا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عام آدمی کو ماہانہ کرائے کے بجائے قسط دے کر گھر کا مالک بنا دیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پچھلے ماہ سب سے زیادہ ٹیکس اکھٹا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے سندھ حکومت سے بات چیت چل رہی ہے جبکہ لاہور میں راوی کے کنارے شہر آباد کرنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ ’پاکستان میں پچھلے 50 سالوں میں پہلی بار دو ڈیم بنا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستان میں پہلی دفعہ ریل کا نظام جدید کیا جائے گا اور کراچی سے لاہور کا سفر پانچ گھنٹے میں طے ہو جائے گا اس کے بعد ٹرین سروس کو سنٹرل ایشیا تک بڑھایا جائے گا جس سے دولت میں مزید اضافہ ہو گا۔

وزیراعظم کے بقول ’اس وقت ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت عروج پر جا رہی ہے اور کارخانوں کو مزدور اور خام مل کی قلت کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت عام آدمی کو سستے گھر فراہم کر رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں ماہانہ کرائے کے بجائے گھر کی قسط دے کر گھر کا مالک بنا دیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں کے قرضے دینے کا عمل آسان کریں تاہم انہوں نے کہا کہ ’بینکوں کو چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کی عادت نہیں ہے اور عملہ چھوٹے لوگوں کو ڈیل کرنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہے۔‘


Leave A Reply

Your email address will not be published.