پی ٹی اے کا ٹک ٹاک کی قابل اعتراض ویڈیوز کے خلاف بڑا ایکشن


پشاور: معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلکیشن نے ملک میں 80 لاکھ قابل اعتراض ویڈیوز اور انہیں اپلوڈ کرنے والے 4 لاکھ اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس سید علی ارشد پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔

سماعت میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے وکیل جہانزیب محسود اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے بتایا کہ ریگولیٹر نے ملک میں ٹک ٹاک پر اپلوڈ ہونے والے قابل اعتراض اور نامناسب مواد کی نگرانی کے لیے ماڈریٹرز کی تعداد 116 سے بڑھا کر 476 کردی ہے۔

بینچ نے کہا کہ عدالت ملک میں ٹک ٹاک کی سروسز پر پابندی لگانا نہیں چاہتی اس کے بجائے وہ صرف ایسے میکانزم میں دلچسپی رکھتی ہے جس سے اس ایپلکیشن پر نامناسب مواد کی اپلوڈنگ روکی جائے۔

عدالت پشاور کے 40 رہائشیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کردہ درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں پی ٹی اور اور ایف آئی اے کو آئین کی وہ دفعات جو اسلامی طرزِ زندگی کی خلاف ورزی کی اجلازت نہیں دیتیں کے تحت ٹک ٹاک بین کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

مارچ میں عدالت نے ملک میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی جس سے ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن تک عوام کی رسائی بلاک ہوگئی تھی۔

بعدازاں یکم اپریل کو عدالت نے پابندی ہٹا دی تھی ساتھ ہی پی ٹی اے کو یہ بات یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی کہ کو غیر اخلاقی اور نامناسب مواد اس ایپلیکیشن پر اپلوڈ نہیں کیا جائے گا۔

درخواست گزاروں کی پیروی وکیل سارا علی اور نازش مظفر نے کی۔

پی ٹی اے کے ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) نے کہا کہ ماڈریٹر ٹک ٹاک کے مواد کی نگرانی کررہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی ویڈیو کو اپلوڈ ہونے سے پہلے فلٹر کرنا ممکن نہیں ہے حتیٰ کے دیگر ممالک کے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہپاکستانی ثقافت دیگر ممالک سے مختلف ہے اس لیے ان ممالک نے ایسی ٹیکنالوجی نہیں بنائی جو اچھے اور برے مواد میں فرق کرسکے اور نہ ہی وہ پاکستان کو اس قسم کا میکانزم دستیاب ہونے پر آگاہ کریں گے۔

بعدازاں عدالت نے پی ٹی اے کو تفصیلی پیش رفت رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 22 جون تک ملتوی کردی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.