پاکستان میں پانی کی اچانک قلت کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ رپورٹ پڑھیں


سندھ کے ضلع بدین کے کاشت کار عزیز ڈیرو نے 30 ایکڑ پر کپاس اور مرچ کی فصل لگائی تھی لیکن پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ سوکھ گئی ہے۔ شادی لارج کے علاقے کے اس چھوٹے زمیندار کا کہنا ہے کہ ’ویسے یہاں چاول ہوتے ہیں لیکن لوگ اپنی زمین کے پچیس فیصد پر کپاس اور مرچ کی فصل لگاتے ہیں جن کو وقت پر پانی نہیں مل سکا ہے۔‘

سندھ کے نہری نظام میں بدین کا شمار آخری یا ٹیل کے علاقوں میں ہوتا ہے، جس سے آگے سمندر شروع ہو جاتا ہے۔ عزیز ڈیرو کے مطابق بدین ضلع کو دو نہریں اکرام واہ اور پھلیلی کے ذریعے پانی کی فراہمی کی جاتی ہے جن میں سے اکرم واہ کا بہاؤ 12 مہینے جاری رہتا ہے، اس کا کمانڈ ایریا 3 لاکھ ایکڑ ہے جبکہ پھلیلی کا کمانڈ ایریا 10 لاکھ سے زائد ہے اور دونوں نہروں کے علاقے میں چاول اور گنے کی کاشت ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘گنے کی کاشت نومبر سے فروری تک جاری رہتی ہے جبکہ چاول کی نرسری اپریل میں لگائی جاتی ہے، اگر پانی کی قلت ہو تو پھر اپریل میں اس کا بیج لگایا جاتا ہے لیکن اس سال ایک طرف گنے کی فصل متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب چاول بھی نہیں لگ سکا ہے۔’

ہ شکایت صرف عزیز ڈیرو کی نہیں ہے، محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق اس وقت پاکستان کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چالیس سے تیس فیصد اور گذشتہ پانچ برسوں کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد سے لے کر بیس فیصد تک کم ہے۔

اس اچانک قلت کے باعث خیبر سے سندھ تک کاشتکار پریشان ہیں کیونکہ ان کی بوئی ہوئی فصلوں کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔

پاکستان میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق تربیلا ڈیم کی سطح کم ہونے سے یہ قلت مزید شدید ہو سکتی ہے۔ اس وقت تربیلا کی سطح 1400 فٹ ہے جبکہ اس کا ڈیڈ لیول 1392 فٹ ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت پاکستان میں چار دریاؤں، دریائے سندھ، کابل، جہلم اور چناب میں گذشتہ سال کے مقابلے میں پانی کا بہاؤ پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں زرعی پانی کی قلت کے خلاف بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہ یار، خیرپور اور دادو کے اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جس کے دوران عثمان شاہ ہڑی میں بعض کسانوں نے زنجیروں سے ماتم کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کرچکی ہے۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے ترجمان ڈاکٹر خالد محمود ملک کے مطابق اس موسم کے دوران پاکستان میں پانی کا زیادہ تر انحصار گلیشیئر پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی پر ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ’ملک کے شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر درجہ حرارت بڑھنے سے پگھلتے ہیں۔ مگر اس سال درجہ حرارت کم رہا جس وجہ سے گلیئشر سے ہمیں اتنا پانی حاصل نہیں ہو سکا ہے‘۔یہ واضح طور پر موسمیاتی تبدیلی ہے۔ جس کا ہمیں اس وقت شدید تجربہ ہو رہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ تربیلا ڈیم کا زیادہ تر انحصار گلیشیئر کے پانی پر ہے جبکہ منگلہ ڈیم کا زیادہ انحصار بارشوں کے پانی پر ہے۔

‘اس وجہ سے اس وقت منگلہ سے زیادہ پانی چھوڑا جا رہا ہے مگر یہاں عمومی اوسط سے بارشیں بھی کم ہوئی ہیں۔ جس وجہ سے منگلہ میں بھی پانی کم ہے۔’

پاکستان میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کا کہنا ہے کہ خریف میں پانی کی قلت 17 فیصد ہے جبکہ تربیلا ڈیم کی سطح کم ہونے سے یہ قلت مزید شدید ہو سکتی ہے۔ اس وقت تربیلا کی سطح 1400 فٹ ہے جبکہ اس کا ڈیڈ لیول 1392 فٹ ہے۔

اس وقت پنجاب کو 90 ہزار 600 کیوسکس، سندھ کو 54 ہزار کیوسکس، بلوچستان کو آٹھ ہزار کیوسکس اور خیبرپختون خواہ کو تین ہزار کیوسکس پانی کی فراہمی کی جارہی ہے۔ ارسا کا کہنا ہے کہ سکردو میں درجہ حرارت معمول سے کم ہے جس کی وجہ سے دریاؤں باالخصوص دریائے سندھ میں پانی کی آمد کم ہو رہی ہے۔

قومی اسمبلی کی پانی کے معاملات پر سٹینڈنگ کمیٹی کو پیر کے روز چیئرمین ارسا راؤ ارشاد علی خان نے بتایا تھا کہ پانی کی قلت کے باعث پنجاب کو پانی کی 22 فیصد کم اور سندھ کو 17 فیصد کم فراہمی کی جا رہی ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ممبر زاہد جونیجو نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ ’پنجاب کو نو فیصد اور سندھ کو 44 فیصد‘ قلت کا سامنا ہے۔

پانی کے حالیہ بحران کی وجہ سے ٹاؤن سٹریم کوٹڑی میں پانی کا بہاؤ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ چیئرمین ارسا راؤ ارشاد علی خان کا کہنا ہے کہ جب پانی کی قلت ہے تو پھر کوٹڑی سے نیچے پانی کیوں چھوڑا جا رہا ہے۔

جس کے جواب میں زاہد جونیجو کا مؤقف تھا کہ یہ پانی سمندری اور جنگلی حیات کے علاوہ جامشورو، حیدرآباد دیگر اضلاع کے لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور معاہدے کے مطابق بھی دس ملین ایکڑ فٹ پانی لاؤن سٹریم میں چھوڑنا ضروری ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈاکٹر خالد محمود ملک کے مطابق ‘اس وقت ہم توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت کچھ بہتر ہوگا۔ جس سے گلیشیئر زیادہ پگھل کر ہمیں پانی فراہم کریں گے۔ اس سے صورتحال کچھ بہتر ہونے کا امکان ہے۔’

تاہم ان کے مطابق آنے والے دنوں میں اوسط سے ہٹ کر بارشوں کی توقع نہیں ہے، ‘مگر اوسط بارشیں دیکھ رہے ہیں۔ جس سے بھی بہتری کا امکان موجود ہے۔’

گنے، چاؤل اور کپاس کو نقصان کا خدشہ

سندھ حکومت کے محکمہ زراعت کو خدشہ ہے کہ رواں سال تنیوں کیش کراپ گنا، کپاس اور چاول کی فصلیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے  نشریاتی ادارے  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی کی قلت 40 فیصد تک ہے جس میں سے کوٹڑی بیراج پر یہ قلت 60 فیصد تک ہے۔

‘گڈو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹڑی بیراج کے کمانڈ ایریا میں اس وقت تین فصلیں خطرے میں ہیں۔ گنا پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ رہا ہے، چاول کے بعد یہ دوسری فصل ہے جس کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔

’دوسرے نمبر پر کپاس ہے جو پہلے ہی ٹارگٹ سے کم لگائی گئی تھی، وہ بھی پانی کی قلت سے متاثر ہے تیسری فصل چاول ہے جس کی نرسری مئی میں لگ جاتی ہے اور اس میں بیج لگایا جاتا ہے لیکن پورے سندھ میں ابھی تک بیج نہیں لگایا جا سکا۔ چاول کی فصل کا انحصار تو موسمی نہروں پر ہوتا ہے اور وہ کاشت کار جو صرف خریف کی فصل لیتا ہے وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔’

یاد رہے کہ سنہ 2019 میں قبل از وقت پانی کی دستیابی کی وجہ سے 80 ہزار ہیکٹرز پر چاول کی کاشت کی گئی تھی اور کاشت کاروں کو اس سے فائدہ ہوا تھا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2020 میں دو لاکھ 86 ہزار ہیکٹرز پر گنے کی کاشت کی گئی تھی۔ کپاس بروکرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 38 فیصد کمی ہوئی تھی۔

پاکستان میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ملک کے دریاؤں اور ذخائر میں دستیاب پانی کی تقسیم کا ذمہ دار ہے، یہ تقسیم 1991 کے پانی کے معاہدے اور بعض اوقات عراضی بنیاوں پر تشکیل دیے گئے فارمولے کے تحت کی جاتی ہے۔ اس اتھارٹی میں چاروں صوبوں اور وفاق کی نمائندگی ہوتی ہے اور اتھارٹی کے چیئرمین شپ باری باری ہر صوبے کے حصے میں آتی ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ ’ارسا پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کر رہا ہے، سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں دیا جارہا ہے، وہ کسی اور صوبے کا نہیں اپنے حصے کا پانی مانگ رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق پنجاب نے تونسا پنجند کینال کو کھول دیا ہے جس سے سندھ میں ’پانی کی قلت مزید شدید ہو گئی ہے جبکہ یہ کینال قلت کے دنوں میں نہیں کھولا جاتا یہ بات طے تھی‘۔

سہیل انور سیال نے جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی اور انھیں پانی کی قلت اور موجودہ سنگین صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔

دوسری جانب سندھ میں پانی کی قلت کے خلاف سندھ اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضاربانی کا کہنا تھا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختون خواہ نے تونسا پنجند کینال کھولنے کی مخالفت کی تھی لیکن ’چیئرمین سننے کو تیار نہیں ہے‘۔

اسی طرح قومی اسمبلی میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے احتجاج کیا۔ رکن اسمبلی نوید قمر کا کہنا تھا کہ بار بار کہا گیا ہے کہ پانی کی قلت کے وقت لنک کینال نہ کھولے جائیں لیکن اس کے باوجود تونسا پنجد کینال رواں ہے۔

قلت پر قابو پانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کی قلت کی وجہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی شدید کمی ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت دستیاب پانی کا چالیس فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان محض دس فیصد ذخیرہ کرتا ہے۔

ارسا کے مطابق پاکستان اگر دستیاب پانی کا دس فیصد بھی ذخیرہ کر لے تو یہ صلاحیت 30 دن کی ہے۔ اس دوران اگر موسمی تبدیلی جیسے حالات پیدا ہوجائیں تو پھر پاکستان مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

ارسا ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ دو کروڑ 90 لاکھ ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینکتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً یہ شرح 86 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔

پاکستان میں آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔

ارسا کے مطابق ہر سال ضائع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔

پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا میں بھی مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔

پاکستان کے مختلف دریاؤں اور نہروں میں پانی کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

جمعہ کے روز تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 50.2 کیوسک ہے جبکہ گزشتہ سال 87.7 تھی۔ گزشتہ پانچ سال کی اوسط 96.6 کیوسک تھی۔

دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر 26.2 کیوسک رہی ہے۔ گزشتہ سال یہ 63.4 کیوسک تھی۔ گزشتہ پانچ سال کی اوسط 54.9 ہے۔

منگلہ کے مقام پر دریائے جہلم میں اس وقت پانی کا بہاؤ 42.5 کیوسک ہے جبکہ گزشتہ سال یہ بہاؤ 63 کیوسک اور گزشتہ پانچ برسوں کا اوسط بہاؤ 56.4 کیوسک ہے۔

مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں اس قت 25.1 کیوسک پانی بہہ رہا ہے گزشتہ سال یہ بہاؤ 35 کیوسک اور پانچ برسوں کے دوران اوسط 40.2 کیوسک تھی۔

اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر دریائے سندھ، کابل، جہلم اور چناب میں پانی کا بہاؤ 144 کیوسک ہے جبکہ گذشتہ سال یہ بہاؤ 249.1 کیوسک تھا۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران اس موسم کے دوران 242.1 کیوسک پانی چل رہا تھا۔

دریاؤں میں پانی کم ہونے کی وجہ سے اس وقت پاکستان کے تقریباً تمام ڈیموں میں بھی پانی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جس وجہ سے اس وقت ڈیموں سے بھی کم پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ان دنوں تربیلا سے 60 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ گذشتہ سال ان ہی دنوں 90 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران اوسطا 92 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔

منگلا ڈیم سے اس وقت 58 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال 70 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران اوسط 45.4 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔

حکام کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کا زیادہ انحصار بارشوں اور کم گلیشیئر کے پانی پر ہے۔ اس وقت ہنگامی صورتحال اور دیگر ڈیموں میں پانی کم ہونے کی وجہ سے منگلا سے زیادہ پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

چشمہ بیراج سے اس وقت 98 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے گذشتہ سال 145 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا تھا۔ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران اوسط 131.1 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔

کینال اور چشموں سے اس وقت 5.5 کیوسک پانی چھوڑا جارہا جبکہ گذشتہ سال یہ ہی 6.6 کیوسک اور گذشتہ پانچ سالوں کا اوسط 4.1 ہے۔

سندھ میں گدو بیراج سے اس وقت 59.6 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ گذشتہ سال 101.8 کیوسک چھوڑا گیا تھا۔ گذشتہ پانچ سالوں میں ہر سال اوسطا 82.1 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا۔

سکھر بیراج سے اس وقت 46.5 کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ گذشتہ سال یہ 71.5 کیوسک اور پانچ سالوں میں ہر سال اوسطاً 60.2 کیوسک تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.