ابراہیم ریئسی 62 فیصد ووٹ لے کر ایران کے نئے صدر منتخب ہو گئے


ایرانی صدارتی انتخابات میں سابق جج اور سخت گیر نظریات کے حامل ابراہیم رئیسی فتح یاب رہے ہیں۔ ان کے حریف اور اعتدال پسند صدارتی امیدوار عبدالناصر ہمتی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے رئیسی کو فتح کی مبارک باد دی ہے۔

جمعہ 18 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حکام کے مطابق 59 ملین اہل ووٹروں میں سے 28 ملین سے زائد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق جج ابراہیم رئیسی کو ان میں سے 17.8 ملین ووٹ ملے۔

60 سالہ شیعہ رہنما ابراہیم رئیسی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت امریکا نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ایرانی صدراتی انتخابات کے ابتدائی نتائج اور عبدالناصر ہمتی کی طرف سے ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دیے جانے سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا، ”ایرانیوں کو ایک آزاد اور منصفانہ انتخابی عمل کے تحت اپنے رہنما چننے کے حق سے محروم کیا گیا۔‘‘

 

واحد اعتدال پسند امیدوار کی طرف سے رئیسی کو مبارکباد

 

ایرانی صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند سمجھے جانے والے واحد امیدوار عبدالناصر ہمتی نے ابراہیم رئیسی کو ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے۔ ایران کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ عبدالناصر ہمتی نے ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پر مبنی ایک خط تحریر کیا: ”مجھے امید ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی رہنمائی میں آپ کی انتظامیہ اسلامی جمہوریہ کو قابل فخر بنائے گی، ذریعہ معاش،  عوام کے حالات اور  فلاح و بہبود میں بہتری کو یقینی بنائے گی۔‘‘

 

Abdonnaser Hemmati, Direktor der Zentralbank Iran

اس سے قبل اپنی مدت صدارت مکمل کرنے والے حسن روحانی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب لوگوں کی طرف سے منتخب ہونے والے صدر کو مبارکباد دی تاہم انہوں نے رئیسی کا نام نہیں لیا۔ روحانی کے بقول: ”چونکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا اسی لیے میں سرکاری طور پر مبارکباد ابھی نہیں دے رہا ہوں۔‘‘

امیدواروں کا انتخاب محدود

 

صدراتی انتخابات کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ایران کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے عوام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ جمعے کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے ضرور نکلیں۔ تاہم ایران کے اندر اور باہر موجود مخالفین کا کہنا ہے ایران میں معاشی مشکلات اور شخصی آزادی پر قدغنوں کے سبب عوام میں غم و غصہ موجود ہے، اسی لیے ووٹ ڈالنے کی شرح کافی کم رہی۔

Wahlen im Iran

ملک میں اصلاحات کے حامی ووٹروں کے لیے اس الیکشن میں انتخابات انتہائی محدود تھا کیونکہ سخت گیر انتخابی کونسل نے اہم اعتدال پسند اور کنزرویٹیو امیدواروں کو انتخابات میں شمولیت سے محروم کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گارڈین کونسل کی طرف سے انتخابی دوڑ سے ایسے امیدواروں کو نکال باہر کرنے کا مقصد ہی رئیسی کی فتح کا راستہ ہموار کرنا تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.