عید منائیں، مگر احتیاط کے ساتھ

“یہ وقت بھی گزر جائے گا‘‘کہتے ہیں زندگی خوش گوار اور ناخوش گوار حالات و واقعات کا مجموعہ ہے۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، اچھے دن ہمیشہ نہیں رہتے، تو برے دن بھی گزر ہی جاتے ہیں۔ دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا ہو جس نے کبھی نامساعد حالات، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا نہ کیا ہو اور ان ہی مشکلات سے، حوصلے سے نمٹنا ہی اصل فن ہے۔ جس طرح ایک انسان مشکل اورآزمائش سے نبرد آزما ہو کر منزل مقصود تک پہنچتا ہے، بالکل اسی طرح قوموں کی…

مزید پڑھیں

2020 اور بیرون ملک ملازمین کی صورت حال

Sidra Saeed

” آج عجیب سی گھبراہٹ ہے۔ دل بھی بے چین ۔۔۔ کام پر دھیان بھی نہیں دیا جارہا۔ عمران علی ساتھی ورکر سے اپنی کیفیت بیان کرتے ہیں۔اسی دوران موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ عمران علی دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر سے فون آیا ہے۔ وہ جھٹ سے فون اٹھاتے ہیں اطلاع ملتی ہے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی والدہ بھی کورونا وائرس میں مبتلا تھیں۔عمران علی کا تعلق بھارت سے ہے اور سعودی عرب کی ایک کمپنی میں بطور سیفٹی انجئینر کام کرتے…

مزید پڑھیں

مرد و زن، ایک شعر لیکن دو الگ الگ فقرے

صنف انسان میں مرد اور عورت مجھے قافیہ اور ردیف لگتے ہیں، جن کے بغیر وجود کا شعر مکمل نہیں ہوتا ۔ محبت، نفرت، خامشی ، شور ، نشیب و فراز ، خوشی ، غم ، وصل و ہجر کے جذبے سموئے ہوئے یہ صنف انسانی ایک شاہکار ہے۔ لیکن پتہ نہیں کیوں آج کی دنیا میں دونوں کو صنف مخالف کہا جاتا ہے اور اس پر عمل کروانے کیلئے دونوں طرح کے فقرے کشید کیے جاتے ہیں، دونوں اپنے الگ الگ مقام و منزلت کی بات کرتے ہیں۔ کہیں…

مزید پڑھیں

ٹک ٹاک کا جادو ، فحش ویڈیوز بے قابو

ویسے تو دنیا میں بہت بڑے اور نام نہاد انقلاب آئے ہیں لیکن اس ٹک ٹاک نے ایسے انقلاب کا نعرہ لگایا کہ سب کو اس نعرے کی لپیٹ میں لے لیا ۔ آج پوری دنیا میں ٹک ٹاک ایپ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد 5 سو ملین ہے اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان میں فیس بک کے بعد سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپ ٹک ٹاک ہے جس پر چند سیکنڈز کی ویڈیوز بنا کر بہت سے لوگ شہرت کی…

مزید پڑھیں

جھگیوں میں بھی انسان ہیں

روزینہ علی 24 نیوز کی نمائندہ ہیں۔ 2015 سے پارلیمنٹ، سیاست، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور سپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ کھیلوں سے سکول کے دور سے لگاؤ ہے۔ خود بھی صحافت کے ساتھ ساتھ کئی کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

مزید پڑھیں

ہم اپنی بولی کیوں نا لگائیں

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ہم سب اس وقت جس حالت جنگ میں ہیں، کرونا وائرس اس قدر مضبوط اور طاقتور ہے کہ پوری دنیا اس کے آگے کمزور اور بے بس دکھائی دیتی ہے لیکن سب نے ہمت نہیں ہاری اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہے۔   جہاں ایک طرف ہمارے حکمران اور قوم اس جنگ سے لڑنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں وہی کچھ مافیا ابھی بھی اس مشکل وقت میں اپنی جیبیں گرم کرنے میں مصروف ہے. یہ تو ایک بہت بڑا…

مزید پڑھیں

Transgenders & their Hardships in Pakistan

All mankind is from Adam, and an Arab has no superiority over a non-Arab nor a non-Arab has any superiority over an Arab; also a white has no superiority over a black nor does a black have any superiority over a white, except by the piety and good actions. Prophet of Allah (PBUH) Transgender is a person known as “Third Gender”. Different terms like “Khusra”, “Hijra”, “Khuwaja Sara” are also in use. Left with frowning upon, their community is mostly considered as untouchables. Treating them as a bizarre creature, this…

مزید پڑھیں

کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی یلغار، امتحان یا عذاب

ملک اس وقت ناگہانی آفات بحرانوں ،وباؤں اور آسمانی آفات کی زد میں ہے اورحالت جنگ کی سی کیفیت سے دوچار ہے ۔ایک طرف مہلک کورونا وائرس تو دوسری جانب ٹڈی دل کی ہولناک یلغار جاری۔ بلکہ یوں کہیں کہ اللہ تعالٰی کی ناشکری کی بناء پر ہم پر ایک کے بعد ایک عذاب مسلط ہو رہا ہے۔اللہ تعالٰی کی ناراضگی دور کرنے اور آسمان کی نامہربانیوں اور آسمانی آفتوں سے محفوظ رہنے کا صرف یہ ہی حل ہے کہ پوری قوم اللہ تبارک تعا لٰی سے اپنے گناہوں کی…

مزید پڑھیں

طاقت، غرور اور کرونا

دنیا کے تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک آج ایک ہی پیج پر آ چکے ہیں ، اک دوسرے کو للکارنے اور ڈرانے والے ممالک آج باہمی مدد کو ترستے نظر آتے ہیں ۔ کرونا کی دھاڑ ایسی تھی کہ سب بھیگی بلی بن کر بیٹھ گئے ۔ کسی کو اپنی معشیت اور کسی کو اپنی انفرادی زندگی بچانے کے لالے پڑنے لگے ۔ بڑے بڑے ممالک کا غرور اس کرونا نے ایسا غرق کیا جس کی مثال ہمیں تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔ اس بات پر ہمارا…

مزید پڑھیں

اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل گیا

آج اپنے تمام نظریاتی اختلاف ایک طرف کر کہ استاد محترم ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب کے نماز جنازہ پر گیا، استاد کی حثیت سے ان کی وفات کا دلی افسوس ہوا کہ مغیث صاحب اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔ پر اس بات کا اور بھی زیادہ افسوس ہوا لوگوں کا میڈیا میں آنے کہ لیے جنازے کو سامنے رکھ کر انٹریو دینا ان کے آنے کی وجہ صاف ظاہر کر رہا تھا۔ اور صحافی بھائیوں کو تو ۲۱ توپوں کی سلامی بھی کم ہے جس طرح یہ…

مزید پڑھیں